کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8631
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي أَوْ أَحَدٌ قَبْلَكَ قَالَ تِلْكَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے : {لَہُمْ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} … ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا، اس سے مراد نیک خواب ہے، جو نیک بندہ دیکھتا ہے یا اس کے لیے کسی کو دکھایا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی اپنے اولیاء کا تعارف کرواتے ہوئے کہتے ہیں: {اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَاء َ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ۔ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔} (سورۂ یونس: ۶۲۔۶۳)
سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔ انھی کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں،یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اللہ تعالی کے اولیاء وہ ہیں، جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقوٰی اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقوٰی ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی، ایسے لوگ بروز قیامت بے خوف ہوں گے، غم و رنج سے ناآشنا ہوں گے، دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہو گا۔ ایسے لوگوں کی خوشی اور بشارت کا ایک سبب دنیا میں آنے والا نیک خواب بھی ہے۔
سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔ انھی کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں،یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اللہ تعالی کے اولیاء وہ ہیں، جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقوٰی اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقوٰی ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی، ایسے لوگ بروز قیامت بے خوف ہوں گے، غم و رنج سے ناآشنا ہوں گے، دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہو گا۔ ایسے لوگوں کی خوشی اور بشارت کا ایک سبب دنیا میں آنے والا نیک خواب بھی ہے۔
حدیث نمبر: 8632
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا تَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] قَالَ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْهُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُشْرَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ وَبُشْرَاهُمْ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کیا کہتے ہو: {لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} … ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ انھوں نے کہا: تو نے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میں نے اس آدمی کے بعد کسی کو یہ سوال کرتے ہوئے نہیں سنا، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: دنیوی زندگی میں ایسے لوگوں کی خوشخبری نیک خواب ہے، جو مسلمان دیکھتا ہے، یا اس کے لیے کسی کو دکھایا جاتا ہے، اور آخرت میں ان کی خوشخبری جنت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سابق حدیث کے فوائد ملاحظہ ہوں۔