کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8624
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَحَدَ الرَّهْطِ الَّذِينَ نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [سورة التوبة: ٩٢] قَالَ إِنِّي لَآخِذٌ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ أُظِلُّ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُبَايِعُونَهُ فَقَالُوا نُبَايِعُكَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَا تَفِرُّوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ، یہ صحابی اس گروہ میں شامل تھا، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے{ وَّلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ۔} … اور نہ ان لوگوں پر کہ جب بھی وہ تیرے پاس آئے ہیں، تاکہ تو انھیں سواری دے تو تو نے کہا میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمھیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ رہی تھیں، اس غم سے کہ وہ نہیں پاتے جو خرچ کریں۔ تو سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے درخت کی ٹہنیاں پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کیا ہوا تھا، جبکہ لوگ بیعت کر رہے تھے اور انھوں نے کہا: ہم موت پر آپ کی بیعت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس چیز پر بیعت کرو کہ فرار اختیار نہ کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا جابر اور سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہما سے یہ صحیح ثابت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت پر بیعت نہیں کی، بلکہ اس چیز پر کی تھی کہ وہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔
اس آیت سے پچھلی والی آیتیہ ہے: {لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاء ِ وَلَا عَلَی الْمَرْضٰی وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖمَاعَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکتِ جہاد کے لیے راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوصِ دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں،ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اللہ بے حد درگزر کرنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ ان دوآیات میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے، جن کو جہاد کے معاملے میں معذور قرار دیا گیا ہے۔
اس آیت سے پچھلی والی آیتیہ ہے: {لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاء ِ وَلَا عَلَی الْمَرْضٰی وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖمَاعَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکتِ جہاد کے لیے راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوصِ دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں،ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اللہ بے حد درگزر کرنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ ان دوآیات میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے، جن کو جہاد کے معاملے میں معذور قرار دیا گیا ہے۔