کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8611
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ [سورة الأنفال: ٦٠] أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ منبر پر تھے: {وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} … اور دشمن کے لئے جتنی طاقت ہو تیار رکھو۔ خبر دار! طاقت سے مراد تیر اندازی ہے، خبردار! قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں جدید جنگی صلاحیتوں کی مہارت حاصل کرنا، جدید اسلحہ تیار کرنا اور ہر میدان میں لڑنے والی فوجیں تیار کر کے رکھنا اس حدیث ِ مبارکہ کا اولین تقاضا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد / حدیث: 8611
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17568»