کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8599
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ هَذِهِ سُبُلٌ قَالَ يَزِيدُ مُتَفَرِّقَةٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ [سورة الأنعام: ١٥٣]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لئے ایک خط کھینچا اور ساتھ ہی فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں کئی خطوط کھینچے اور فرمایا۔ یہ جدا جدا راستے ہیں، ان میں سے ہر راستے پر شیطان ہے، جو اپنی طرف بلاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {واَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ} … اور یہ کہ بے شک یہی میرا راستہ ہے سیدھا، پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اختلاف اور فرقہ بندی سے اجتناب کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپنانے کی کوشش کی جائے، یہی صراطِ مستقیم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8599
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 244، والدارمي: 1/ 67، والنسائي في الكبري : 11174، وابن حبان: 7 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4142»