کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8598
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ [سورة البقرة: ٢٢٠] قَالَ فَخَالَطُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نال ہوئی:{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَ حْسَنُ} … یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو۔تولوگوں نے یتیموں کے مال علیحدہ کردئیے، جب علیحدہ کئے توان کا کھانا خراب ہونے لگا اورگوشت بدبودار ہونے لگا، جب نبی کریمa سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَإِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ} … اگر تم یتیموں کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالی فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ اس حکم کے بعد صحابہ نے ان سے کھانا ملا لیا۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی آیت سے صحابۂ کرام کو فکر پیدا ہوئی، جس کی وجہ سے انھوں نے یتیم کا حساب کتاب ہی علیحدہ کر دیا،یہ عدل و انصاف تو تھا ہی، لیکن اس میںیتیم کا نقصان ہو رہا تھا، کیونکہ الگ سے کھانا پکانا اور پھر بچی ہوئی چیز کا خراب ہو جانا، اس سے نقصان ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نئے حکم کے ذریعے صحابۂ کرام کی رہنمائی کی کہ یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو، البتہ اخراجات کا حساب ٹھیک ٹھیک اور عدل و انصاف کے ساتھ رکھو۔ ان آیات سے ان مختلف افراد کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے، جن کا کھانا پینا مشترکہ ہو، کسی کے دل میں مشترک مال کے بارے میں کوئی ایسا عنصر نہ پایا جائے، جس سے عدل و انصاف کے تقاضے متأثر ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8598
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني ۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 2871 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3000»