کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلٰی اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ¤تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8594
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [سورة الأنعام: ٦٥] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار یہ ہونے والا ہے، لیکن ابھی تک اس کی تاویل پوری نہیں ہوئی (یعنی اس کی مصداق صورت سامنے نہیں آئی)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8594
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن ابي مريم، ولانقطاعه، فان رواية راشد بن سعد عن سعد بن ابي وقاص مرسلة ۔ أخرجه الترمذي: 3066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1466»
حدیث نمبر: 8595
عَنْ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا نَزَلَتْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ [سورة الأنعام: ٦٥] قَالَ هَذِهِ أَهْوَنُ وَأَيْسَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری چہرے کی پناہ میں آتا ہوں۔ جب یہ حصہ نازل ہوا: {أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} … یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیرے چہرے کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ اور جب یہ حصہ نازل ہوا: {أَ وْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} … یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ زیادہ ہلکا اور زیادہ آسان عذاب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8595
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7313 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14367»
حدیث نمبر: 8596
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ الْآيَةَ [سورة الأنعام: ٦٥] قَالَ هُنَّ أَرْبَعٌ وَكُلُّهُنَّ عَذَابٌ وَكُلُّهُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ فَمَضَتْ اثْنَتَانِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً فَأُلْبِسُوا شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ وَثِنْتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَةَ الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ۔} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے، یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے، دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ سمجھیں۔ پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ چار امور ہیں، چاروں عذاب کی صورتیں ہیں، سب نے لامحالہ طور پر واقع ہونا ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے پچیس برس بعد واقع ہو چکی ہیں، ایک یہ کہ لوگ فرقوں میں بٹ گئے اور دوسرا پھر انہوں نے ایکدوسرے کو عذاب بھی چکھایا، باقی دو نے بھی لا محالہ طورپر ہو کر رہنا ہے، اور وہ ہیں: زمین میں دھنسنا اور پتھروں کا برسنا۔
وضاحت:
فوائد: … اوپر سے عذاب کے آنے کی صورتیں: بارش کی کثرت، پتھر کا برسنا، امراء و حکام کا ظلم و ستم، نیچے سے عذاب کے آنے کی صورتیں: دھنسنا، زلزلہ، طوفانی سیلاب، ماتحتوں کی بددیانتی اور خیانت۔ باقی دو امور واضح ہیں کہ لوگ مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بٹ کر ایکدوسرے کی گردنیں اڑائیں اور ایک دوسرے کو تکلیف دینا شروع کر دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8596
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي جعفر الرازي ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 180 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21547»