کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8589
عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عَامِرٍ أَلَا غَيَّرْتَ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ [سورة المائدة: ١٠٥] فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَيْنَ ذَهَبْتُمْ إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک آدمی اوطاس کی جنگ میں شہید ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے ابو عامر! تو نے اس برائی کو کیوں نہیں بدلا (یعنی اس سے روکا کیوں نہیں)؟ آگے سے اس نے یہ آیت پڑھی: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں چلے گئے ہو، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے ایماندارو! جب تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ تو گمراہ ہونے والے کافر تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8589
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، حديث علي بن مدرك عن الصحابة منقطع ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 799 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17297»
حدیث نمبر: 8590
عَنْ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ [سورة المائدة: ١٠٥] وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُنْكِرُوهُ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ مُجَانِبٌ لِلْإِيمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قیس سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ جبکہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہفرماتے ہوئے سنا کہ جب لوگ جب برائی کو دیکھیں اور اسے تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام عذاب میں مبتلا کر دے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ ایمان سے مختلف چیز ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی حدیث نمبر (۱۶) میں آیت کے مطابق یہ الفاظ ہیں: وَاِنَّکُمْ تَضَعُوْنَھَا عَلٰی غَیْرِ مَوْضِعِھَا۔ (تم اس آیت کو اس کے غیر محل پر چسپاں کر رہے ہو)۔ دراصل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ لوگ اس آیت کا غلط مفہوم سمجھ رہے ہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا، خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں، خواہ اجنبی اور دور کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہو جائے، برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ مقاتل سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے، بروں کو سزا اور اچھوں کو جزا، اس آیت سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم نہ دیا جائے اور بری باتوں سے منع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8590
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوداود: 4338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1»