کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْاَلُوْا عَنْ اَشْیَائَ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8587
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا [سورة آل عمران: ٩٧] قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ قَالَ ثُمَّ قَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ [سورة المائدة: ١٠١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} … لوگوں پر اللہ کے لیے حج فرض ہے جو اس کی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہے۔ تو لوگوں نے کہا: ا ے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہرسال فرض ہو جاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئــَـلُوْا عَنْ اَشْیَاء َ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئــَـلُوْا عَنْہَا حِیْنَیُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اصولِ فقہ کا ایک مسلّمہ قانون ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کا مطلق حکم، محکوم بہ کے تکرار پر دلالت نہیں کرتا، یعنی جب شریعت میں کسی قید کے بغیر کوئی حکم دیا جائے اور بندہ اس پر ایک دفعہ عمل کر لے، تو وہ اس حکم سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا اور اس سے دوبارہ اس حکم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔بالکل یہی مثال اس حدیث ِ مبارکہ میں کہ اللہ تعالی نے مطلق طور پر حج کو فرض قرار دیا، اس اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ جب آدمی ایک دفعہ حج کر لے گا تو وہ بریٔ الذمہ ہو جائے گا، لیکن جب صحابہ نے اس قانون پر اکتفا نہ کیا اور مزید پابندیوں کے بارے میں سوال کرنا شروع کر دیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناگوار گزرا اور اللہ تعالیٰ اس قسم کے سوالات سے منع کر دیا۔ حدیث نمبر (۴۰۶۴) میں حج کی فرضیت بیان ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 8588
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ فُلَانٌ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ [سورة المائدة: ١٠١] إِلَى تَمَامِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ فلاں ہے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَـلُوْا عَنْ اَشْیَائَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئَـلُوْا عَنْہَا حِیْنَیُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سوال کی دو اقسام ہیں: (۱)وہ سوال جو ان امورِ دین سے متعلقہ ہو جو عام ضرورت ہونے کی وجہ سے توضیح طلب ہوتے ہیں، ایسا سوال کرناجائزہے، جیسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرے صحابہ کا شراب کے بارے میں سوال کرتے رہنا، یہاں تک اسے حرام قرار دیا گیا، کیونکہ ضرورت کا تقاضا یہ تھا کہ اسے حرام قرار دیا جائے۔ اسی طرح ظالم امراء کی اطاعت کرنے، کلالہ، جوا، حیض، شکار اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرنا، کیونکہیہ ضروریات ہیں، سوال کی اسی قسم کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم خود نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳)
(۲)وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا دورِ نبوی میں ایسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں کریدنا شروع کر دینا، جس کو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے استعمال کر رہے ہوں اور اس میں کوئی مفسدت بھی نہ پائی جاتی ہو، ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ جو سوالات محض تکلف کی بناء پر کیے جاتے ہیں، ان کی واضح ترین مثال موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا مطالبہ ہے، جب موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اللہ تعالی نے تم لوگوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم سن کر اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کر دیتے تو اللہ تعالی کی منشا پوری ہو جاتی، لیکن انھوں نے سب سے پہلے تو کہا: اے موسی! ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔ پھر جب ان کو اللہ تعالی کے حکم کا علم ہو گیا تو انھوں نے پہلا سوال یہ تھا: اللہ تعالی ہمارے لیے اس کی ماہیت بیان کرے، جب وہ بیان کر دی گئی تو ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا رنگ کیا ہونا چاہیے، جب رنگ کی وضاحت کر دی گئی تو وہ پھر کہنے لگے کہ اس گائے کی مزید ماہیت بیان ہونی چاہیے، اس قسم کی گائیں تو بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح جب نبو اسرائیل نے مین میخ نکالنا اور طرح طرح کے سوالات کرنے شروع کر دئیے، تو اللہ تعالی بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا، اس لیے دین میں تعمق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حلال و حرام کے بارے میں شریعت نے بڑا آسان اور سادہ قانون پیش کیا ہے، سیدنا ابو الدردائ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ فَھُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ عَفْوٌ، َفاقْبَلُوْا مِنَ اللّٰہِ عَافِیَّتَہٗ، فَاِنَّ اللّٰہ لَمْ یَکُنْیَنْسٰی شَیْئًا۔)) ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اپنی کتاب میں حلال کیا، وہ حلال ہیں۔ جن چیزوں کو حرام کیا، وہ حرام ہیں اور جن چیزوں سے خاموشی اختیار کی، وہ معاف ہیں۔ پس تم اللہ تعالی سے اس کی عافیت قبول کرو، کیونکہ اللہ تعالی کسی چیز کو نہیں بھولتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
(مسند بزار)
ایک اہم سوال: حلال و حرام کا فیصلہ محض اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے، تو پھر سوال کرنے والا مجرم کیوں ہے؟ جواب: حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: بلا شک و شبہ تقدیر میں حلال و حرام کے فیصلے ہو چکے ہیں اور ایسے آدمی کے سوال کی وجہ سے حرام ہونے والی چیز پہلے بھیحرام ہی ہوتی ہے، اس کو مجرم ٹھہرانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے محض تکلف اور تعنت کی بنا پر سوال کیا، حقیقت میں اس کو ایسا سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس حدیث میں جرم سے مراد گناہ ہے۔
(تلخیص از فتح الباری: ۱۳/ ۳۳۳)
مزید وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۲۶۴) والا باب۔
(۲)وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا دورِ نبوی میں ایسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں کریدنا شروع کر دینا، جس کو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے استعمال کر رہے ہوں اور اس میں کوئی مفسدت بھی نہ پائی جاتی ہو، ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ جو سوالات محض تکلف کی بناء پر کیے جاتے ہیں، ان کی واضح ترین مثال موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا مطالبہ ہے، جب موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اللہ تعالی نے تم لوگوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم سن کر اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کر دیتے تو اللہ تعالی کی منشا پوری ہو جاتی، لیکن انھوں نے سب سے پہلے تو کہا: اے موسی! ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔ پھر جب ان کو اللہ تعالی کے حکم کا علم ہو گیا تو انھوں نے پہلا سوال یہ تھا: اللہ تعالی ہمارے لیے اس کی ماہیت بیان کرے، جب وہ بیان کر دی گئی تو ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا رنگ کیا ہونا چاہیے، جب رنگ کی وضاحت کر دی گئی تو وہ پھر کہنے لگے کہ اس گائے کی مزید ماہیت بیان ہونی چاہیے، اس قسم کی گائیں تو بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح جب نبو اسرائیل نے مین میخ نکالنا اور طرح طرح کے سوالات کرنے شروع کر دئیے، تو اللہ تعالی بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا، اس لیے دین میں تعمق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حلال و حرام کے بارے میں شریعت نے بڑا آسان اور سادہ قانون پیش کیا ہے، سیدنا ابو الدردائ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ فَھُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ عَفْوٌ، َفاقْبَلُوْا مِنَ اللّٰہِ عَافِیَّتَہٗ، فَاِنَّ اللّٰہ لَمْ یَکُنْیَنْسٰی شَیْئًا۔)) ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اپنی کتاب میں حلال کیا، وہ حلال ہیں۔ جن چیزوں کو حرام کیا، وہ حرام ہیں اور جن چیزوں سے خاموشی اختیار کی، وہ معاف ہیں۔ پس تم اللہ تعالی سے اس کی عافیت قبول کرو، کیونکہ اللہ تعالی کسی چیز کو نہیں بھولتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
(مسند بزار)
ایک اہم سوال: حلال و حرام کا فیصلہ محض اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے، تو پھر سوال کرنے والا مجرم کیوں ہے؟ جواب: حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: بلا شک و شبہ تقدیر میں حلال و حرام کے فیصلے ہو چکے ہیں اور ایسے آدمی کے سوال کی وجہ سے حرام ہونے والی چیز پہلے بھیحرام ہی ہوتی ہے، اس کو مجرم ٹھہرانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے محض تکلف اور تعنت کی بنا پر سوال کیا، حقیقت میں اس کو ایسا سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس حدیث میں جرم سے مراد گناہ ہے۔
(تلخیص از فتح الباری: ۱۳/ ۳۳۳)
مزید وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۲۶۴) والا باب۔