کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8585
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَانْتَشَوْا مِنَ الْخَمْرِ وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ فَتَفَاخَرُوا وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ الْأَنْصَارُ خَيْرٌ وَقَالَتِ الْمُهَاجِرُونَ الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ فَأَهْوَى لَهُ رَجُلٌ بِلَحْيَيْ جَزُورٍ فَفَزَرَ أَنْفَهُ فَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ إِلَى قَوْلِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ [سورة المائدة: ٩٠-٩١]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے کھانا تیار کیا اور ساتھیوں کو دعوت دی، انہوں نے کھانا کھایا اور شراب پی اور نشہ میں مست ہو گئے، یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے، ہم بھی ان کے پاس جمع تھے، انہوں نے آپس میں فخر کا اظہار کرنا شروع کر دیا، انصار نے کہا: انصار بہتر ہیں، مہاجرین نے کہا کہ مہاجر بہتر ہیں، ایک آدمی نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھائی اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ناک کو پھاڑ دیا، اس طرح ان کی ناک پھاڑی ہوئی تھی،پھریہ آیات نازل ہوئیں: {یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء َ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو۔
حدیث نمبر: 8586
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا [سورة المائدة: ٩٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُتِلَ سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا [سورة المائدة: ٩٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا، جو اس حال میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیتے تھے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔} … ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، پھر وہ متقی بنے اور ایمان لائے، پھر وہ متقی بنے اور انھوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۳) ایک روایت میں ہے: کسی نے کہا: سیدنا سہیل بن بیضائ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، جبکہ ان کے پیٹ میں شراب تھی (یعنی وہ اس وقت پیتے تھے) پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اتار دیا: {لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا}۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۵۰۴)