کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {اِنَّمَا جَزَائُ الَّذِیْنَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8580
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ وَشَكَوْا حُمَّى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَانْطَلَقُوا فَكَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الذَّوْدَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضَمُونَ حِجَارَتَهَا حَتَّى مَاتُوا قَالَ قَتَادَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [سورة المائدة: ٣٣]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکل اور عرینہ قبیلہ کے کچھ افراد نے اسلام قبول کیااور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ وہ مویشیوں والے لوگ ہیں، کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، نیز انہوں نے مدینہ کے بخار کی بھی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیےاونٹوں کا حکم دیا اور ان سے فرمایا کہ وہ مدینہ سے باہر چلے جائیں اور اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پئیں، ایسے ہی ہوا اور وہ مدینہ سے باہر حرّہ کی ایک طرف چلے گئے، لیکن انھوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے تعاقب میں بندے بھیجے، جو ان کو پکڑ کر لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اور حرہ کی ایک جانب انہیں پھینک دیا، وہ پتھروں کو منہ میں کاٹتے تھے اور اسی حالت میں مر گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی: { اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْی’‘ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} … جو لوگ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں،یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۳۳)
وضاحت:
فوائد: … مُحَارِب: لغوی معنی: لڑائی کرنے والا:اصطلاحی تعریف: جو لوگوں کو قتل ہونے یا مال چھن جانے کے ڈر سے گھبراہٹ میں ڈال رکھے، خواہ وہ شہر میں ہو یا اس سے باہر اور ایسا کرنے والا مسلمان ہو یا کافر۔ اس کو محاربہ کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی منظّم اور مسلح جتھے کا اسلامی حکومت کے دائرے میںیا اس کے قریب صحرا وغیرہ میں راہ چلتے قافلوں اور افراد اور گروہوں پر حملے کرنا، قتل و غارت گری کرنا، سلب ونہب، اغوا اور آبرو ریزی کرنا وغیرہ۔ محاربہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۶۸۰۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8580
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1501، 4192، 5727، ومسلم: 1671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12697»