حدیث نمبر: 8578
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً فِي كِتَابِكُمْ لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ وَأَيُّ آيَةٍ هِيَ قَالَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي [سورة المائدة: ٣] قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالسَّاعَةَ الَّتِي نَزَلَتْ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ طارق بن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایکیہودی،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیر المومنین ! تم اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہو کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم نے (تعظیم کرتے ہوئے) اس دن کو عید بنا لینا تھا، انہوں نے کہا: وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ {الْیَوْمَ أَ کْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی} … آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کی قسم! میں وہ دن جانتا ہوں، جس میں یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، بلکہ اس گھڑی کا بھی علم ہے، جس میں یہ نازل ہوئی تھی، جمعہ کا دن تھا اور عرفہ کی شام تھی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سوال کرنے والے کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ تھے، مشہور قول کے مطابق یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مسلمان ہوئے تھے، اس وقت ان کے ساتھ یہودیوں کی ایک جماعت تھی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: فَاِنَّھَا نَزَلَتْ فِیْیَوْمِ عِیْدَیْنِ فِیْیَوْمِ جُمُعَۃٍ وَفِیْیَوْمِ عَرَفَۃَ۔ … یہ آیت تو دو عیدوں کے دن میںنازل ہوئی، جمعہ کا دن بھی تھا اور عرفہ کا دن بھی تھا۔ (ترمذی) چونکہ ہمارے دین کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہے، نہ کہ عقلی اختراعات و ایجادات و تصورات پر، اس دین میں خوشی اور غمی کے معیارات مقرر ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت، نبوت و رسالت کا آغاز، اسراء و معراج، ہجرت ِ مدینہ، غزوۂ بدر کبری، غزوۂ خندق، فتح مکہ، دین کی تکمیل، جلیل القدر صحابۂ کرام کا قبولیت ِ اسلام، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب امت ِ مسلمہ کے لیے بڑی بڑی خوشیوں کے دن ہیں، لیکن ان خوشیوں کا معیار نبی مہربان کا مبارک وجود ہے۔ معلوم ہوا کہ شریعت کی رہنمائی کے بغیر کسی مناسبت سے کسی دن کو تعظیم والا قرار دے کر اس کو خوشیاں منانا شروع کر دینایہودیانہ روش ہے، عصر حاضر میں سالگرہ اور وطنی عیدجیسے امور محض اغیار کی نقالی ہیں۔