کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {اِنْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖاِلَّااِنَاثًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8566
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا [سورة النساء: ١١٧] قَالَ مَعَ كُلِّ صَنَمٍ جَنِيَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان {اَنْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖاِلَّااِنَاثًا} (وہمشرکنہیں پکارتے مگر اناث کو) میں اِنَاثًا سے مراد یہ ہے کہ ہر بُت کے ساتھ ایک جننی ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آیت کے لفظ اِنَاثًا کے معانی کے بارے میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے، درج ذیل چاراقوال ہیں: (۱) اموات (مردے)، یہ رائے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور امام حسن بصری کی ہے، بلکہ امام حسن نے کہا: ہر وہ چیز جس میں روح نہ ہو، جیسے پتھر اور لکڑی، وہ اناث ہے۔ (۲)بت، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور مجاہد کا قول ہے۔ (۳)لات، عزی، مناۃ،یہ ساری خواتین تھیں،یہ ابو مالک، ابن زید اور سدی کا قول ہے۔ (۴) فرشتے، مشرک لوگ فرشتوں کو اللہ تعالی کی بیٹیاں تصور کیا کرتے تھے۔ العیاذ باللہ۔ اِنَاثًا سے شیطان مراد لینے والوں نے درج ذیل توجیہات پیش کی ہیں: (۱)بت کے اندر شیطان ہوتا ہے۔ (۲)یہ ابلیس ہے، اس کی عبادت کی صورت یہ ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ (۳)یہ وہ بت ہیں، جن کی عرب لوگ عبادت کیا کرتے تھے اور ان کے مؤنث نام رکھتے تھے، جیسے لات، عزی، نائلہ، مناۃ وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8566
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21551»