کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاقَمْتَ لَہُمُ الصَّلَاۃُ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8565
عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالُوا قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ قَالُوا تَأْتِي عَلَيْهِمُ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَذِهِ الْآيَاتِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ [سورة النساء: ١٠٢] قَالَ فَحَضَرَتْ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذُوا السِّلَاحَ قَالَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِي مَكَانِهِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَ قَمْتَ لَہُمُ الصَّـلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِّـنْـہُمْ مَّعَکَ وَ لْیَأْخُذُوْا اَسْلِحَتَہُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَائِکُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَۃٌ أُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ} … جب تم ان میں ہو اور ان کے لیے نماز کھڑی کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لیے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجدہ کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آ جائیں اور وہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آ جائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے۔ (النساء: ۱۰۲)جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔
وضاحت:
فوائد: … کتنی حیران کن بات ہے کہ دشمنان اسلام کا نظریہیہ تھا کہ عصر کی نماز مسلمانوں کو ان کی جانوں اور اولادوں سے بھی عزیز ہے اور وہ کبھی بھی اس کو ترک نہیں کریں گے، کاش عصر حاضر کے مسلمان بھی ان حقائق کو سمجھ جاتے۔ یہ پوری آیت پچھلی حدیث کی شرح میں گزر چکی ہے۔ جب دشمن یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ عصر کی نماز میں مصروف مسلمانوں پر یکبارگی حملہ کر دینا ہے، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے غفلت کو گوارہ نہ کیا، لیکن ہم مسلم معاشرہ میں رہتے ہوئے بانوے ترانوے فیصد لوگ بے نمازی ہیں۔ راجح قول کے مطابق عسفان مقام پر پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف اس طریقے کے مطابق ادا کی تھی،یہ چھ یا سات سن ہجری کا واقعہ تھا۔ نماز خوف کی مختلف صورتوں کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۲۹۴۷) کا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8565
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1236، والنسائي: 3/ 177 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16696»