کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلَاۃِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8564
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا [سورة النساء: ١٠١] وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ لِي عُمَرُ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا کہ اگر کفار کے فتنے سے تم ڈرو تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کی یہ رخصت قبول کرو۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ آیت میں قصر نماز کے لیے خوف کی شرط اتفاقی طور پر لگائی گئی ہے، اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اگر خوف نہ ہو تو پوری نماز پڑھی جائے گی، قصر نماز کی اصل قید اور شرط سفر ہے۔ اس موضوع سے متعلقہ تفصیلی احکام کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۲۳۴۵) کا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8564
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 686 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 174»