کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: وَقَوْلِہٖ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ}¤وَقَوْلِہٖ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ … }¤ان آیات کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 8552
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْنَا نِسَاءً مِنْ سَبْيِ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَكَرِهْنَا أَنْ نَقَعَ عَلَيْهِنَّ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [سورة النساء: ٢٤] قَالَ فَاسْتَحْلَلْنَا بِهَا فُرُوجَهُنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نے بنو اوطاس قبیلہ کی خواتین لونڈیوں کے طور پرحاصل کیں، جبکہ ان کے خاوند موجود تھے (یعنی وہ پہلے شادی شدہ تھیں اور ان کے خاوند زندہ تھے)، اس لیے ہم نے ان سے جماع کو ناپسند کیا، کیونکہ ان کے خاوند موجود ہیں، پھر جب ہم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} … اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں۔ تو ملک یمین کی وجہ سے ہم نے ان سے صحبت کی۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی ایسی لونڈیاں مسلمانوں کے لیے حلال ہوں گی، ان کے خاوندوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جائے گا، البتہ استبرائے رحم کا یقین حاصل کرنے کے لیے ایک حیض کا انتظار کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 8553
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ [سورة النساء: ٣٢]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں جہاد میں شرکت نہیں کرتیں اور ہماری وراثت کا حصہ بھی مردوں سے آدھا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبْنَ وَسْـئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِـیْمًا} … اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرنا چاہئے اور مرد و زن کو جن جن صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے، ان کو بروئے کار لانا چاہیے، جو نعمتیں اور اہلیتیں محض اللہ تعالی کی عنایت ہوں اور بن مانگے ملی ہوں، ان کے بارے میں تمنا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، مثلامرد کو بحیثیت مرد برتری دینا، جیسے جہاد، گواہی، میراث میں حصہ، نگہداشت، ولایت و ذمہ داری، اسی طرح عورت کو حیض اور نفاس جیسے عارضوں میں مبتلا کر کے اس کے مقام کو مزید کم کر دینا۔ یہ اللہ تعالی کی تقسیم ہے، اور یہی درست ہے، سو اس پر ہر ایک کو راضی ہونا چاہیے، بہرحال اچھے اور برے اعمال کی راہ کھلی ہے، جو چاہے آگے بڑھ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 8554
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذِهِ الْآيَةَ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا [سورة النساء: ٤١] قَالَ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ نساء تلاوت کی، جب میں اس آیت پر پہنچا: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَہِیْدًا} … وہ کیفیت کیسی ہو گی، جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان سب پرگواہ لائیں گے۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یا اللہ ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انھوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور؟ پھر ان سب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گواہی دیں گے کہ یا اللہ! یہ سب سچ کہہ رہے ہیں۔ نیز دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۹۱)۔