کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَاللَّاتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ … } کی تفسیر
حدیث نمبر: 8551
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ [سورة النساء: ١٥] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَعْرَضَ عَنَّا وَأَعْرَضْنَا عَنْهُ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ وَكَرَبَ لِذَلِكَ فَلَمَّا رُفِعَ عَنْهُ الْوَحْيُ قَالَ خُذُوا عَنِّي قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ قَالَ الْحَسَنُ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَا قَالَ فَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُمَا وُجِدَا فِي لِحَافٍ لَا يَشْهَدُونَ عَلَى جِمَاعٍ خَالَطَهَا بِهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَجُزَّتْ رُءُوسُهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَالّٰتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَایِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰییَتَوَفّٰیھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا۔} … اور تمھاری عورتوں میں سے جو بد کاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب کرو، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو انھیں گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یااللہ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے۔ (سورۂ نساء:۱۵) پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کے ساتھ اسی طرح کیا، پھر ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد جمع تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے رخ پھیر لیا کرتے تھے، اب کی بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے رخ پھیر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہوئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے حکم وصول کرو۔ ہم نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے بار ے میں یہ راستہ بتایا ہے کہ جب کنوارا، کنواری کے ساتھ زناکرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور جب شادی شدہ، شادی شدہ سے زنا کا ارتکاب کرتے تو سو کوڑے اور پھر رجم۔ حسن راوی کہتے ہیں: میں یہ نہ جان سکا کہ یہ اگلا حصہ حدیث کا حصہ ہے یا نہیں ہے: اگر لوگ گواہی دیں کہ یہ مرد اور عورت ایک لحاف میں پائے گئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ جماع کی گواہی نہ دیں تو انہیں سو کوڑے مارے جائیں گے اور ان کے سر مونڈ دیئے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … حدود کے نازل ہونے سے پہلے زانی عورت کی سزا یہ تھی کہ اس کو گھر میں بند کر دیا جاتا، یہاں تک کہ وہ مر جاتی، پھر اللہ تعالی نے اس جرم کی مختلف سزائیں نازل کر دیں۔ حدیث نمبر (۶۶۸۲) اور اس کے بعد والی احادیث میں زنا کی حدود کی تفصیل گزر چکی ہے، اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ شادی شدہ زانیوں کو رجم سے پہلے سو سو کوڑے لگائے جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8551
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: فان شھدوا الخ ، وھذا الاسناد منقطع، فان الحسن البصري لم يسمع من عبادة بن الصامت ۔ أخرجه مسلم: 1690 بلفظ خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُسَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23161»