کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {وَاِذَ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8549
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمَا لَكُمْ وَهَذِهِ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ [سورة آل عمران: ١٨٧] هَذِهِ الْآيَةَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا [سورة آل عمران: ١٨٨] وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا: اے رافع! تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اوران سے کہو: اگر ہم میں سے ہر کوئی اس چیز پر خوش ہو، جو اس کو دی گئی ہے اور یہ پسند کرے کہ ایسے کام پر بھی اس کی تعریف کی جائے، جو اس نے کیا نہ ہو، تو پھرتو ہم سب کو عذاب ہوگا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تمہارا س آیت سے کیا تعلق ہے؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہ لِلنَّاسِ وَلَاتَکْتُمُوْنَہ ْ فَنَبَذُوْہُ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖثَمَنًاقَلِیْلًا فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ۔} … اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے تو انھوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی۔ سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ آیت بھی پڑھی: {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَیَفْرَحُوْنَ بِمَا أَ تَوْا وَیُحِبُّونَ أَ نْ یُحْمَدُوْا بِمَا لَمْیَفْعَلُوا} … ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اہل کتاب سے ایک سوال کیا، انہوں نے اس کو چھپایا اورغلط بتایا اور تمنا یہ کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی اس بناء پر تعریف بھی کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے جو کچھ پوچھا ہے، انہوں نے وہ بتا دیا اور یہ یہودی اس صحیح بات کو چھپا لینے پر بہت خوش تھے کہ انھوں نے اصل بات بھی چھپا لی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب بھی دے دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آیات اگرچہ یہودیوں کے بارے میں ہیں، لیکن ان کا حکم عام ہے اور ہر وہ شخص ان کا مصداق ہے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ خیر و بھلائی والے اُن امور کی وجہ سے اس کی تعریف کی جائے، جو اس نے کیے نہ ہوں، اسی طرح اس کو علم و صلاح کی طرف منسوب کیا جائے، جبکہ حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو، آجکل کئی ظاہر پرست اس چیز کے خواہش مند نظر آتے ہیں کہ ان کے لیے بڑے بڑے القاب استعمال کیے جائیں۔نَسْأَ لُ اللّٰہَ السَّلَامَۃَ وَالْعَافِیَۃَ۔