کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {اَوَلَمَّا اَصَابَتْکُمْ مُصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8548
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ وَحُسْنَ مُنْقَلَبِهِمْ قَالُوا يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللَّهُ لَنَا لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ عَلَى رَسُولِهِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ [سورة آل عمران: ١٦٩]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب احد میں تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندں میں ڈال دیں، وہ جنت کی نہروں پر جاتے ہیں، جنت کے پھل کھاتے ہیں اور عرش الٰہی کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں جگہ پکڑ تے ہیں، جب انہوں نے کھانے پینے کی یہ عمدگی اور اپنے ٹھکانے کی خوبصورتی دیکھی تو انھوں نے کہا: کاش ہمارے دنیا والے بھائیوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کس قدر اچھا سلوک کیا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے روگردانی نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :میں تمہارا یہ پیغام تمہاری طرف سے تمہارے بھائیوں تک پہنچاتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ۔} … اور تو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے، ہرگز مردہ گمان نہ کر، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … شہدء کی جس زندگی کو ثابت کیا جا رہا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بدعتی لوگ ایسی آیات کے ذریعے شہدا اور اولیا کی وہ زندگی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کا تصور انھوں نے بزعم خود قائم کر لیا ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تو وہ اس دنیا سے منقطع ایک نئے عالم میں داخل ہو جاتا ہے، جس کو عالم برزخ کہتے ہے، اُس عالَم کا اس دنیا سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے، اس عالَم میں نیکیوں اور برائیوں کا صلہ ملناشروع ہو جاتا ہے۔ شہداء کی مثال اس حدیثِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔