کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8545
عَنْ سَالِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا اللَّهُمَّ الْعَنْ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ [سورة آل عمران: ١٢٨] قَالَ فَتِيبَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں بد دعا کی: اے اللہ! حارث بن ہشام پر لعنت کر، اے اللہ! سہیل بن عمرو پر لعنت کر، اے اللہ! صفوان بن امیہ پر لعنت کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ پس ان سب افراد کی توبہ قبول کر لی گئی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفر (۴) سن ہجری میں ستر قراء صحابہ کو بئر معونہ والوں کی طرف بھیجا، تاکہ یہ ان کو قرآن مجید اور علم شرعی کی تعلیم دیں،ان کے امیر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، لیکن عامر بن طفیل نے ان قراء کو قتل کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا بڑا دکھ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ قنوت ِ نازلہ کی اور ان قبائل پر بد دعا، بالآخر یہ آیت نازل ہو۔ تعیین کے ساتھ صرف اس آدمی پر لعنت کی جا سکتی ہے، جس کا وحی کے ذریعے جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہو، مثلا ابوجہل پر لعنت ہو، ابو لہب پر لعنت۔ وگرنہ کسی کافر اور مسلمان پر تعیین کے ساتھ لعنت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ممکن ہے کہ ایسا کافر اپنی زندگی میں مشرف باسلام ہو جائے، ہاں مطلق طور ایسے کہنا درست ہے کہ کافروں پر لعنت ہو، جھوٹوں پر لعنت ہو، اس سے مراد وہ افراد ہوں گے، جنھوں نے کفر اور جھوٹ کی حالت میں ہی مرنا ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8545
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 3004، والنسائي: 2/ 203، وعلقه البخاري عقب الرواية رقم: 4559 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5674 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5674»
حدیث نمبر: 8546
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَّتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ [سورة آل عمران: ١٢٨]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ احد والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے دانت توڑ دیے گئے اور آپ کی پیشانی مبارک زخمی کی گئی،یہاں تک کہ آپ کے چہرئہ انور پر خون بہہ پڑا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، جبکہ نبی ان کو ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث میں الگ الگ واقعات بیان کیے گئے ہیں، پہلے غزوۂ احد اور اس کے بعد بئر معونہ کا واقعہ پیش آیا، لیکن دونوں میں ایک ہی آیت کے نزول کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احد کے بعد نماز میں مذکورہ لوگوں پر بد دعا کی تو دونوں واقعات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکنیہاں اصول تفسیر کا یہ قانون پیش کرنازیادہ بہتر ہے کہ صحابۂ کرام جب ایک آیت سے مختلف مسائل استنباط کرتے ہیں تو وہ لفظ فَنَزَلَتْ استعمال کرتے ہیں،یہ سب سے بہتر صورت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1791، وعلقه البخاري في {ليس لك من الامر شيئ}في المغازي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11978»