حدیث نمبر: 8543
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ [سورة آل عمران: ١١٠] قَالَ هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کا رضی اللہ عنہا فرمان: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} … تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو۔ سے مراد وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
وضاحت:
فوائد: … علامہ سندھی نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں خطاب تمام صحابہ کو نہیں کیا جا رہا، بلکہ مہاجرین کو کیا جا رہا ہے، چہ جائیکہ ساری امت کو اس کا مخاطَب سمجھ لیا جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خطاب مخاطَب کے موجود ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اس لیےیہ ساری امت کو شامل نہیں ہے، دوسری وجہ یہ بھی کہ مہاجرین ہی ہیں، جن کو ان کے گھروں سے نکالا گیا تھا۔ واللہ تعالی اعلم۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سب سے بہترین اور لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ} … تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (سورۂ آل عمران: ۱۱۰)
حدیث نمبر: 8543M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہیں جنھوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔