کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: {اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ¤مِلْئُ الْاَرْضِ ذَھَبًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8539
عَنْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ يَا رَبِّ قَالَ فَيُقَالُ لَقَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ [سورة آل عمران: ٩١]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت کافر کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: اچھا یہ بتا کہ اگر تجھے زمین بھر سونا دے دیا جائے تو کیا اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اس کا فدیہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: (دنیا میں) تجھ سے اس سے آسان تر مطالبہ کیا گیا تھا (لیکن تو نے اس کو بھی پورا نہ کیا)۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے: {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ أَ حَدِہِمْ مِلْئُ الْأَ رْضِ ذَہَبًا وَلَوِ افْتَدٰی بِہِ} … یقینا وہ لوگ جو کفر کی حالت میں مر گئے، اگر یہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین سے گزارش ہے کہ زندگی کے مقصد کو سمجھیں، وقت کی قدر کریں اور شرعی احکام کے مطابق شب و روز گزاریں،یہی اس زندگی اور اس جہاں کا راز ہے۔