کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8538
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ [سورة آل عمران: ٨٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَبَعَثَ بِهَا قَوْمُهُ فَرَجَعَ تَائِبًا فَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ وَخَلَّى عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مرتد ہوا اور مشرکوں کے ساتھ مل گیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاءَھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔} … اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یقینایہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۶)۔ جب اس کی قوم نے اس تک یہ آیت پہنچائی تو وہ تائب ہو کر واپس آ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے یہ چیز قبول کر لی اور اس کو آزاد چھوڑ دیا۔
وضاحت:
فوائد: … مرتد کی سزا قتل ہے، لیکن اگر کوئی مرتدّ مسلمانوں کے قبضے میں آنے سے پہلے از سرِ نو مشرف باسلام ہو جائے گا تو اس کا اسلام قبول ہوگا اور اس کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8538
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ۔ أخرجه بنحوه النسائي: 7/ 107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2218 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2218»