حدیث نمبر: 8518
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة البقرة: ٢٥٥] وَالم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة آل عمران: ٢] إِنَّ فِيهِمَا اسْمَ اللَّهِ الْأَعْظَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے:{اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ پاک کے اسم اعظم کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۵۶۲۸) اور اس سے پہلے والی احادیث اور ان کے فوائد۔
حدیث نمبر: 8519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّلِيلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ النَّاسَ حَتَّى يُكْثَرَ عَلَيْهِ فَيَصْعَدَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَيُحَدِّثَ النَّاسَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة البقرة: ٢٥٥] قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ يَهْنِيكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمَ الْعِلْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلیل سے مروی ہے کہ ایک صحابی لوگوں کو احادیث بیان کرتا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو وہ گھر کی چھت پر چڑھ کر لوگوں کو احادیث سنانے لگا، ایک حدیث یہ تھی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: قرآن مجید میں کونسی آیت سب سے عظمت والی ہے؟ ایک آدمی نے جواب دیا اور کہا: {اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} یعنی آیۃ الکرسی،یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھا، اس نے کہا:میں نے اپنے سینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کی،یا اس صحابی نے یوں کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا اور میں نے اپنے کندھوں کے مابین اس کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے یہ علم مبارک ہو، یہ واقعی علم ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ صحابی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔
حدیث نمبر: 8520
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَرَدَّدَهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ قَالَ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سوال کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سے سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،لیکن آپ نے یہ سوال کئی بار دہرایا، بالآخر میں نے کہا: وہ آیۃ الکرسی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے تیرا علم مبارک ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں،یہ عرش کے پائے کے پاس اللہ بادشاہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔
حدیث نمبر: 8521
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ فَكَانَتِ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ فَشَكَاهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قَالَ أَخَذْتُهَا فَقَالَتْ لِي إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلْتُهَا فَقَالَ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ تَقُولُ لَا أَعُودُ وَيَجِيءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ فَيَقُولُ أَخَذْتُهَا فَتَقُولُ لَا أَعُودُ فَيَقُولُ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُ فَلَا يَقْرَبُكَ شَيْءٌ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے گھر میں چبوترے پر تھا، ایک جن بھوت آتا اور (مال وغیرہ) لے جاتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جب اسے دیکھے تو کہنا بسم اللہ ! تو اللہ کے رسول کی بات قبول کر۔ جب وہ آیا تو میں نے اس سے یہی بات کہی اور اس کو پکڑ لیا، اس نے کہا: اب نہیں لوٹوں گا۔ پس میں نے اسے چھوڑ دیا،میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: قیدی کا کیا بنا۔ میں نے کہا: جی میں نے اسے پکڑ لیا تھا، جب اس نے دوبارہ نہ آنے کا وعدہ کیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پھر لوٹے گا۔ جب وہ پھر آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور دو تین مرتبہ پکڑ کر چھوڑ دیا، وہ ہر دفعہ یہی کہتا تھا کہ وہ نہیں لوٹے گا اور میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا:جی میں اسے پکڑتا ہوں تو وہ یہ کہتا ہے کہ وہ نہیں لوٹے گا، سو میں اسے چھوڑ دیتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: دیکھنا، وہ لوٹے گا۔ وہ تو واقعی آیا اور میں نے اس کو پکڑ لیا، اب کی بار اس نے کہا: مجھے جھوڑ دو، میں تمہیں ایسی چیز کی تعلیم دیتا ہوں کہ اس کی وجہ سے کوئی چیز تیرے قریب نہیں آئے گی، وہ آیۃ الکرسی ہے، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا تو بہت ہے، لیکن تجھ سے اس نے سچ بولا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آنے والا شیطان تھا، جنوں اور شیطانوںکی ایک جنس کو غُوْل کہتے ہیں، اس کی جمع اغوال اور غیلان ہے، یہ جنوں اور شیطانوں کی ایک قسم ہے، جو مشرکین عرب کے عقیدے کے مطابق جنگلوں میں راہ چلتے لوگوں کو دکھائی دیتے تھے، مختلف شکلوں میں تبدیل ہونا ان کا شیوہ تھا۔ مشرکین کے بقول یہ مسافروں کو راہ سے بے راہ کر کے ہلاک کر دیتے تھے۔
فوائد: … آیۃ الکرسی اور اس کا ترجمہ: {اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْـحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہ سِـنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ لَہٗمَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْیَشْفَعُ عِنْدَہٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖیَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْء ٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓاِلَّابِمَاشَائَوَسِعَکُرْسِـیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یَئـــُـــوْدُہ حِفْظُہُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔} … اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۵)
آیۃ الکرسی عظیم ترین آیت ہے، اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے کلام میں اپنا تعارف پیش کیا ہے، اس سورت کی مختلف فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور مختلف مواقع پر اس کو تلاوت کرنا مسنون ہے، مثلا صبح و شام، رات کو سوتے وقت، ہر فرضی نماز کے بعد، وغیرہ۔
فوائد: … آیۃ الکرسی اور اس کا ترجمہ: {اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْـحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہ سِـنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ لَہٗمَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْیَشْفَعُ عِنْدَہٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖیَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْء ٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓاِلَّابِمَاشَائَوَسِعَکُرْسِـیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یَئـــُـــوْدُہ حِفْظُہُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔} … اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۵)
آیۃ الکرسی عظیم ترین آیت ہے، اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے کلام میں اپنا تعارف پیش کیا ہے، اس سورت کی مختلف فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور مختلف مواقع پر اس کو تلاوت کرنا مسنون ہے، مثلا صبح و شام، رات کو سوتے وقت، ہر فرضی نماز کے بعد، وغیرہ۔