کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَیَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًی … }کی تفسیر
حدیث نمبر: 8507
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ [سورة البقرة: ٢٢٢] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ كَانَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ لَا يَمْدَحُ أَوْ يُثْنِي عَلَى شَيْءٍ مِنْ حَدِيثِهِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ جَوْدَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عورت حیض والی ہوتی تو یہودی نہ ان کے ساتھ کھاتے تھے اور نہ ان کے ساتھ اکٹھے گھروں میں رہتے تھے، جب صحابہ کرام نے اس بارے میں سوال کیا تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَیَسْئَـلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًیفَاعْتَزِلُوا النِّسَاء َ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰییَـطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّـوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔} … اور وہ تجھ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے، سو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ غسل کرلیں تو ان کے پاس آؤ جہاں سے تمھیں اللہ نے حکم دیا ہے۔ بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرنے والے ہیں اور ان سے محبت کرتا ہے جو بہت پاک رہنے والے ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ماسوائے جماع کے ہر چیز کر سکتے ہو۔ جب یہ بات یہودیوں تک پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ آدمی تو ہر وقت یہی ارادہ رکھتا ہے کہ ہر معاملہ میں ہماری مخالفت کرے۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہودیوں نے آپ کے فرمان کے مقابلے میں یہ کہا ہے۔ کیا ہم اس حالت میں جماع بھی نہ کر لیا کریں (تاکہ یہودیوں کی اور زیادہ مخالفت ہو)؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ تبدیل ہو گیا، ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دو صحابہ پر غصہ میں آ گئے ہیں، وہ دونوں ڈرتے ہوئے چلے گئے، بعد میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پیغام بھیجا اور ان کو یہ دودھ پلا دیا، اس سے انھوں نے پہنچان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ناراض نہیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … حیض کے دوران بیوی سے جماع کرنا حرام ہے، چونکہ سیدنا اسید اور سیدنا عباد رضی اللہ عنہما کی بات کا انحصار اسی معصیت پر تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غصے کا اظہار کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8507
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 302 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12379»