حدیث نمبر: 8506
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [سورة الإسراء: ٣٤] عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ [سورة البقرة: ٢٢٠] قَالَ فَخَالَطُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نال ہوئی:{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَ حْسَنُ} … یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ، مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو۔ تولوگوں نے یتیموں کے مال علیحدہ کردئیے، جب علیحدہ کئے توان کا کھانا خراب ہونے لگا اورگوشت بدبودار ہونے لگا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَإِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ} … اگر تم یتیموں کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ اس حکم کے بعد صحابہ نے ان سے کھانا ملا لیا۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی آیت سے صحابۂ کرام کو فکر پیدا ہوئی، جس کی وجہ سے انھوں نے یتیم کا حساب کتاب ہی علیحدہ کر دیا،یہ عدل و انصاف تو تھا ہی سہی، لیکن اس میںیتیم کا نقصان ہو رہا تھا، کیونکہ الگ سے کھانا پکانا اور پھر بچی ہوئی چیز کا خراب ہو جانا، اس سے نقصان ہوتا ہے، اس اللہ تعالی نے نئے حکم کے ذریعے صحابۂ کرام کی رہنمائی کی کہ یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو، البتہ اخراجات کا حساب ٹھیک ٹھیک اور عدل و انصاف کے ساتھ رکھو۔ ان آیات سے ان مختلف افراد کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے، جن کا کھانا پینا مشترکہ ہو، کسی کے دل میں مشترک مال کے باے میں کوئی ایسا عنصر نہ پایا جائے، جس سے عدل و انصاف کے تقاضے متأثر ہوں۔