کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8492
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب قبلہ تبدیل ہوا تو بعض لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور پھر اسی حالت میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} … اللہ تعالیٰ تمہاری نمازیں ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرح رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، درآں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے، بالآخر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خواہش پوری ہوئی تو بعض صحابہ کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ اس سے پہلے والی نمازیں ضائع ہو جائیں گییا ان کا ثواب نہیں ملے گا، اللہ تعالی نے وضاحت کی کہ نمازیں ضائع نہیں ہوں گی، کیونکہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق تھیں۔ اس آیت میں نماز کو ایمان سے تعبیر کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8492
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4680، والترمذي: 2964 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2775»