کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8490
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} قَالَ عَدْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} میں وَسَطًا کا معنی عادل بیان کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} … ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے۔ وَسَط کا لفظی معنی درمیان ہے، لیکنیہ بہتر اور افضل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی جس طرح تمہیں سب سے بہتر قبلہ عطا کیا گیا ہے، اسی طرح تمہیں سب سے زیادہ فضیلت والی امت بھی بنایا گیا ہے اور مقصد اس کا یہ ہے کہ تم لوگوں پر گواہی دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8490
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3339، 4487، 7349 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11291»
حدیث نمبر: 8491
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْعَى نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ أَوْ مَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَيُقَالُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} قَالَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ قَالَ فَيُدْعَوْنَ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالْبَلَاغِ قَالَ ثُمَّ أَشْهَدُ عَلَيْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلایا جائے گا اور ان سے کہاجائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: اب کون آپ کے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوران کی امت، یہی صورت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مصداق ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} … ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے۔ وَسَط کا معنی عادل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میرے امت کے لوگوں کو بلایا جائے گا اور یہ نوح علیہ السلام کے حق میں گواہی دیں گے اور پھر میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ حج میں امت ِ مسلمہ کے اسی منصب کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا: {لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَاء َ عَلَی النَّاسِ} … تاکہ رسول تم پر شہادت دینے والابنے اور تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو۔ (سورۂ حج: ۷۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8491
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق {لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُهَدَاء َ عَلَي النَّاسِ} تاكه رسول تم پر شهادت دينے والابنے اور تم لوگوں پر شهادت دينے والے بنو۔ (سورهٔ حج: 78 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11303»