کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8488
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُقْبِلًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ وَفِيهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف جا رہے تھے، سواری جدھر چاہتی متوجہ ہو جاتی، اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ} … جس طرف بھی تم پھرو، وہیں اللہ تعالیٰ کا چہر ہ ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۱۵)
وضاحت:
فوائد: … اس آیت کی مختلف شانِ نزول بیان کی جاتی ہیں، ان میں ایکیہ ہے کہ اس کے نزول کا سبب سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے کہ سواری کا منہ جدھر بھی ہو، نماز پڑھی جا سکتی ہے، مزید دو اسبابِ نزول درج ذیل ہیں:ہجرت کے بعد جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے تو مسلمانوں کو اس کا رنج تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جب بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے طرح طرح کی باتیں کیں، ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ایسے ہوتا ہے کہ کبھی چند اسباب جمع ہو جاتے ہیں اور ان سب کے حکم کے لیے ایک ہی آیت نازل ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8488
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1000، ومسلم: 700 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5447»