حدیث نمبر: 8487
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا {اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} قَالَ هَاتُوا قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ قَالَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤْنَثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكَرُ قَالَ يَلْتَقِي الْمَاءَانِ فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ آنَثَتْ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي قَالَ بَعْضُهُمْ يَعْنِي الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَهَا قَالُوا صَدَقْتَ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوزن کا آب جو ہر دونوں ملتے ہیں،جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا آب جو ہر غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتائو کہ یعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نساء کی بیماری تھی، انہیںصرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ رسد کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیںیا اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائییعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہُ عَلٰیقَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
وضاحت:
فوائد: … جب یوسف رضی اللہ عنہ کے بھائیوں نے اپنے باپ یعقوب رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو غلہ لینے کے لیے ان کے ساتھ ان کے ساتھ بھیجیں، تو اس وقت انھوں نے ان سے پکا عہد لیا تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ واپس لائیں گے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {قَالَ لَنْ اُرْسِلَہُ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِہٖٓاِلَّآاَنْیُّحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔} … اس نے کہا میں اسے تمھارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا، یہاں تک کہ تم مجھے اللہ کا پختہ عہد دوگے کہ تم ہر صورت اسے میرے پاس لاؤ گے، مگر یہ کہ تمھیں گھیر لیا جائے۔ پھر جب انھوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں، ضامن ہے۔ (سورۂ یوسف: ۶۶)
اس حدیث کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو رہی ہے۔
اس حدیث کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو رہی ہے۔
حدیث نمبر: 8487M
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ وَلَكِنْ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى بَنِيهِ لَئِنْ حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا فَعَرَفْتُمُوهُ لَتُتَابِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ قَالُوا فَذَلِكَ لَكَ قَالَ فَسَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ أَخْبِرْنَا أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ مَاءُ الْمَرْأَةِ وَمَاءُ الرَّجُلِ كَيْفَ يَكُونُ الذَّكَرُ مِنْهُ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فِي النَّوْمِ وَمَنْ وَلِيُّهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ قَالَ فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُكُمْ لَتُتَابِعُنِّي قَالَ فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا وَطَالَ سَقَمُهُ فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ وَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانَ الْإِبِلِ وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانَهَا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ إِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ عَلَى مَاءِ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ عَلَى مَاءِ الرَّجُلِ كَانَ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ قَالُوا وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ قَالَ فَإِنَّ وَلِيِّي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ قَالُوا فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ سِوَاهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَتَابَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ قَالُوا إِنَّهُ عَدُوُّنَا قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ} إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ} فَعِنْدَ ذَلِكَ {بَاؤُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ} الْآيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) یہودیوں کی ایک جماعت ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے ابو القاسم! ہمیں چند باتیں بتائو، انہیں صرف نبی جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مرضی ہے پوچھو، لیکن اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو مدنظررکھنا اور اسے بھی مدنظر رکھنا جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے ذمہ داری لی تھی کہ اگر میں تمہیں تمہارے سوالوں کے درست جوابات دے دوں تو پھر اسلام کے مطابق میری پیروی کرنا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، یہ تمہارا حق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جو مرضی سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہمیں چار باتوں کے بارے میںبتاؤ،یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر کونسا کھانا حرام کیا تھا، آدمی کا آب جوہر عورت کے آب جوہر پر غالب آ جائے تو مذکرکیسے بنتا ہے اور یہ اُمّی نبی نیند میں کیسے ہوتا ہے اورفرشتوں میں سے اس کا دوست کون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق دیتا ہوںہے کہ اگر میں نے تمہیں جواب دیدیے تو تم میری اتباع کرو گے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر پختہ عہد دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ یعقوب علیہ السلام سخت بیمار پڑ گئے تھے اوران کی بیماری لمبی ہو گئی تھی، بالآخر انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیاد ہ پسندیدہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھانا حرام قرار دیں گے، اورانہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹوں کا گوشت اور سب سے زیادہ پسندیدہ مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیںاور جس نے موسیٰ علیہ السلام پرتورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو آدمی کا آب جوہر سفید اور گاڑھا ہوتاہے اور عورت کا پانی زرد اور باریک ہوتا ہے، ان میں سے جو بھی غالب آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے مشابہت ہو جاتی ہے، اگر آدمی کا آب جوہر عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مذکر بن جاتا ہے اوراگر عورت کا آب جوہر آدمی کے مادۂ منویہ پرغالب آ جائے تو مؤنث پیدا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہےیہی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو اس اُمّی نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ یہی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! گواہ رہنا۔ انہوں نے کہا: آپ بھی اب اسی طرح ہیں، ہمیں بتائو فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون ہے؟ یہ بتانے کے بعد یا تو ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دوست جبریل علیہ السلام ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے، یہی جبریل علیہ السلام اس کے دوست رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: تب تو ہم آپ سے علیحدہ ہوتے ہیں، اگر اس کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی ا تباع کرتے اور تصدیق کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جبریل کی تصدیق میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ اس وقت اللہ تعالی نے فرمایا : {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗنَزَّلَہٗعَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ … … کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَ نَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ … اللہ تعالی کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا کہ وہ نہیں جانتے تھے۔ پس اس وقت یہ لوگ دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ پوری آیاتیوں ہیں: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗنَزَّلَہٗعَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ۔ اَوَکُلَّمَا عٰھَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗفَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَمَّا جَاء َھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ کَاَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔اور بلاشبہ یقینا ہم نے تیریطرف واضح آیات نازل کی ہیں اور ان سے کفر نہیں کرتے مگر جو فاسق ہیں۔ اور کیا جب کبھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اسے ان میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷۔۱۰۱)
یہیہودیوں کی ہٹ دھرمی تھی، ان کے پاس پہلے والے چار سوالات کے جوابات کے انکار کی کوئی صورت نہیں تھی، سو انھوں نے جبریل علیہ السلام کے بارے میں یہ بات گھڑ لی۔ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} … دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد نے کہا: پہلا غضب تورات کو ضائع کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے۔ جبکہ قتادہ نے کہا: پہلا غضب عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا۔
یہیہودیوں کی ہٹ دھرمی تھی، ان کے پاس پہلے والے چار سوالات کے جوابات کے انکار کی کوئی صورت نہیں تھی، سو انھوں نے جبریل علیہ السلام کے بارے میں یہ بات گھڑ لی۔ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} … دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد نے کہا: پہلا غضب تورات کو ضائع کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے۔ جبکہ قتادہ نے کہا: پہلا غضب عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا۔