کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: {ادْخُلُو الْبَابَ سُجَّدًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8486
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} قَالَ دَخَلُوا زَحْفًا {وَقُولُوا حِطَّةٌ} قَالَ بَدَّلُوا فَقَالُوا حِنْطَةٌ فِي شَعْرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} … (سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہو جاؤ) لیکن وہ لوگ اس کے برعکس گھسٹ کر داخل ہوئے اور ان سے کہا گیا کہ {وَقُوْلُوا حِطَّۃٌ} … (اور کہو بخش دے) لیکن انھوں نے حکم کو بدل دیا اور کہا: بالی میں گندم کا دانہ۔
وضاحت:
فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطٰیٰکُمْ وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ۔} … اور جب ہم نے کہا اس بستی میں داخل ہو جاؤ، پس اس میں سے کھلا کھاؤ جہاں چاہو اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو بخش دے، تو ہم تمھیں تمھاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم نیکی کرنے والوں کو جلد ہی زیادہ دیں گے۔ (سورۂ بقرہ: ۵۸)
جب بنو اسرائیل میدانِ تیہ میں چالیس سال گزارنے کے بعد یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے اور اللہ تعالی نے ان کو بیت المقدس کی فتح عطا کی، جبکہ اس فتح کی تکمیل کے لیے سورج کو بھی روک دیا گیا تھا، اس وقت اِن سے کہا گیا کہ سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہو جاؤ اور کہتے جاؤ کہ یا اللہ! ہمیں بخش دے، تاکہ فتح کے اظہار تشکر کا مظہر نظر آ جائے، لیکن انھوں نے داخل ہوتے ہوئے تضحیک آمیز انداز اپنایا،یہیہودیوں کی حکم عدولی کا حال تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8486
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4479، ومسلم: 3015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8095»