کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ بقرہ کی تفسیر اور اس کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 8480
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَفِي رِوَايَةٍ تَعَلَّمُوا فَإِنَّهُ شَافِعٌ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ عَنْ أَهْلِهِمَا ثُمَّ قَالَ اقْرَءُوا الْبَقَرَةَ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھو اور سیکھو، کیونکہ یہ روزِ قیامت پڑھنے والوں کے حق میں سفارش کرے گا اور دو چمکدار سورتیں یعنی سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھاکرو، کیونکہ یہ روز قیامت دو بادلوں یا دو سایوں کی مانند ہوں گی یا یہ پر پھیلائے ہوئے پرندوں کی دو غولوں کی مانند ہوں گی، اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ بقرہ پڑھا کرو، اسے حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اسے چھوڑنا باعث حسرت ہے، جادو گر اس پر طاقت نہیں رکھ سکتے۔
وضاحت:
فوائد: … جادو گروں کو بَطَلَۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے سارے کے سارے افعال باطل ہوتے ہیں۔ سورۂ بقرہ پر طاقت نہ رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ جادو گر اس شخص پر اپنا عمل نہیں کر سکتا، جو سورۂ بقرہ کی تلاوت کرتا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8480
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 804 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22498»
حدیث نمبر: 8481
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقَدَّمُهُمْ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ أَوْ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَّافَ يُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت قرآن مجید کو او راس پر عمل کرنے والوں کو لایا جائے گا، سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران ان کے آگے آگے ہوںگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو سورتوں کی تین مثالیں بیان کیں، جنہیں میں ابھیتک نہیں بھولا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ یہ دو سورتیں دو بادل ہوں گی،یا دو سائے یا دو اندھیرا نما (سائے)، جن میں روشنی ہو گی، گویا کہ یہ دو پر پھیلانے والے پرندوں کی دو جماعتوں کی مانند ہوں گی اور اپنے پڑھنے والوں کے لئے دفاع کریں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8481
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 805 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17787»
حدیث نمبر: 8482
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ قَالَ ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبْرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَعْرِفُنِي فَيَقُولُ مَا أَعْرِفُكَ فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَعْرِفُنِي فَيَقُولُ مَا أَعْرِفُكَ فَيَقُولُ أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا أَهْلُ الدُّنْيَا فَيَقُولَانِ بِمَ كُسِينَا هَذِهِ فَيُقَالُ بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجَةِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ هَذًّا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سورۂ بقرہ سیکھو، اس کی تعلیم حاصل کرنا باعث ِ برکت ہے اور اسے چھوڑنا باعث ِ حسرت ہے، باطل پرست اس پر غالب نہیں آ سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئے اور پھر فرمایا: سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران سیکھو،یہ دونوں چمکدار اور خوبصورت سورتیں ہیں،یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کواس طرح ڈھانپ لیں گی گویا کہ دو بادل ہوں یا دو سایہ دار چیزیں یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو غول ہوں اور یقیناقرآن مجید قیامت کے دن تلاوت کرنے والے کو اس وقت ملے گا، جب اس کی قبر پھٹے گی، وہ کمزور اوررنگت تبدیل شدہ آدمی کی مانند ہوگا اور بندے سے کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا: میں نہیں پہچانتا، قرآن پھر کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ یہ کہے گا: میں نہیں پہچانتا، وہ کہے گا: میں تیرا ساتھی قرآن ہوں، جس نے تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا اورتجھے رات کو جگاتا رہا، آج ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے (یعنی ہر تاجر اپنی تجارت سے نفع حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے) اور آج تو ہر تجارت کے پیچھے ہو۔ (یعنی آج تجھے ہر تجارت سے بڑھ کر فائدہ حاصل ہوگا) پھر اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائیگی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو عمدہ پوشاکیں پہنائی جائیں گی، وہ اس قدر بیش قیمت ہوں گی کہ دنیا ومافیہا (کی قیمت) ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ پوشاکیں ہمارے لیے کیوں ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ تمہارے بیٹے کے قرآن پڑھنے کی وجہ سے پہنایا گیا ہے، پھر اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور جنت کی منزلیں طے کرتا جا، وہ جنت کے بالا خانوں میں چڑھتا جائے گا، جب تک پڑھتا جائے گا، چڑھتا جائے گا، تیز پڑھے یا آہستہ پڑھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8482
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن في المتابعات من اجل بشير بن المھاجر الغنوي، وحسّنه الحافظ ابن كثير في تفسيره ، ولبعضه شواھد يصح بھا۔ أخرجه البزار: 2302 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23338»
حدیث نمبر: 8483
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَقَرَةُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُهُ نَزَلَ مَعَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ثَمَانُونَ مَلَكًا وَاسْتُخْرِجَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَوُصِلَتْ بِهَا أَوْ فَوُصِلَتْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيَسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ بقرہ قرآن مجید کی کوہان اور اس کی چوٹی ہے، اس کی ہر آیت کے ساتھ اسی (۸۰) فرشتے نازل ہوئے اور اس کی آیت {لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} کو عرش الٰہی کے نیچے سے نکالا گیا اور اور پھر اس کو سورۂ بقرہ کے ساتھ ملا دیا گیا۔ سورۂ یٰسین، قرآن مجید کا دل ہے، جو بھی اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور آخرت کے ثواب کے لئے پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا، اپنے قریب المرگ لوگوں کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل حدیث سے ثابت ہوا کہ سورۂ بقرہ واقعی قرآن مجید کی کوہان اور چوٹی ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موقوفًا اور مرفوعًا روایت کرتے ہیں: ((اِنَّ لِکُلِّ شَيْئٍ سَنَامًاوَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ، وَاِنَّ الشَّیْطَانَ اِذَا سَمِعَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ خَرَجَ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِي یُقْرَأُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔)) … ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورۂ بقرہ ہے اور جب شیطان سورۂ بقرہ کی تلاوت سنتا ہے تو وہ اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں اس سورت کی تلاوت کی جا رہی ہو۔ (حاکم: ۱/ ۵۶۱، صحیحہ: ۵۸۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8483
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الرجل وابيه، وسمي في رواية بأبي عثمان، ولا يعرف أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة : 1075، والطبراني: 20/ 511 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20566»
حدیث نمبر: 8484
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے، جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مضمون درج ذیل مرفوع روایت میں بھی بیان کیا گیا ہے: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَؤُوْا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فِيْ بُیُوْتِکُمْ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَدْخُلُ بَیْتًایُقْرَاُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔)) … اپنے گھروں میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے، اس میں شیطان نہیں گھستا۔ (حاکم: ۱/۵۶۱، صحیحہ:۱۵۲۱)
سورۂ بقرہ حق ہے اور شیطان باطل ہے، جہاں حق کا ظہور اور آمد ہو، باطل وہاں سے دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8484
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 780 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7808»