کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ فاتحہ کی تفسیر اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ يَا أُبَيُّ فَالْتَفَتَ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ صَلَّى أُبَيٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَعَلَيْكَ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَيْ أُبَيُّ إِذْ دَعَوْتُكَ أَنْ تُجِيبَنِي قَالَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَسْتَ تَجِدُ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنْ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ قَالَ بَلَى أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَا أَعُودُ قَالَ أَتُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ تَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ هَذَا الْبَابِ حَتَّى تَعْلَمَهَا قَالَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي يُحَدِّثُنِي وَأَنَا أَتَبَطَّأُ مَخَافَةَ أَنْ يَبْلُغَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ الْحَدِيثَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْبَابِ قُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي قَالَ فَكَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ أُمَّ الْقُرْآنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلَهَا وَإِنَّهَا لَلسَّبْعُ مِنَ الْمَثَانِي زَادَ فِي رِوَايَةٍ بِلَفْظٍ إِنَّهَا السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بلایا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بلایا: اے ابی ! انہوں نے توجہ تو کی، لیکن جواب نہ دے سکے، پھر انھوں نے تخفیف کے ساتھ نماز مکمل کی اور بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! السلام علیک، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر سلامتی ہو، اے ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہاتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ وحی نہیں سنی {اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} … اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند کرو گے کہ میں تمہیں وہ سورت سکھاؤں کہ اس جیسی سورت نہ تو تورات میں نازل ہوئی ہے، نہ زبور میں، نہ انجیل اور نہ قرآن مجید میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ضرورسکھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں تم اس دروازہ سے باہر نہ جاؤ گے کہ تم کو وہ سکھلا دوں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے باتیں کرنا شروع کر دیں، میں اس خوف سے آہستہ آستہ چل رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ باتیں ختم ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر پہنچ جائیں، پھر جب ہم دروازے کے قریب ہوئے تومیں نے کہہ دیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کونسی سورت ہے، جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ میں نے جواباً سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ نے اس جیسی سورت نہ تورات میں نازل میں کی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن مجید میں۔یہی وہ سات دہرائی جانے والی آیات ہیں اور یہی قرآن عظیم ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ فاتحہ کی بڑی فضیلت کے ساتھ ساتھ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا ایک تقاضا بیان کیا گیا ہے کہ نماز کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلاوے کی آواز آ جائے تو نماز کو ترک کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نداء پر لبیک کہنا ہے، سبحان اللہ۔دنیا میں سب سے زیادہ تلاوت سورۂ فاتحہ کی کی جاتی ہے، بلکہ ہر آدمی اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اور بار بار اس سورت کی تلاوت کرتا ہے، لیکن اللہ تعالی کے کلام کا کیا کمال ہے کہ مجال ہے کوئی بوریت اور اکتاہٹ محسوس ہو۔ اس حدیث کے آخر میں اور اگلی احادیث میں قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: {وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ۔} … اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھے بار بار دھرائی جانے والی سات آیتیں اور بہت عظمت والا قرآن عطا کیا ہے۔ (سورۂ حجر: ۸۷)
آیات کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو اللہ تعالییہ فرمانا چاہتے ہیں: اے نبی!ہم نے جب قرآن مجید اور خاص طور پر سورۂ فاتحہ جیسی لازوال دولت تجھے عنایت فرما رکھی ہے تو تجھے نہیں چاہئے کہ کافروں کے دنیوی مال و متاع اور ٹھاٹھ باٹھ کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے،یہ تو سب فانی ہے اور صرف ان کی آزمائش کے لئے چند روزہ انہیں عطا ہوا ہے، ساتھ ہی تجھے ان کے ایمان نہ لانے پر صدمے اور افسوس کی بھی چنداں ضرورت نہیں، ہاں تجھے چاہئے کہ نرمی، خوش خلقی، تواضع اور ملنساری کے ساتھ مومنوں سے پیش آتا رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8473
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9334»
حدیث نمبر: 8474
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُمِّ الْقُرْآنِ هِيَ أُمُّ الْقُرْآنِ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَهِيَ الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے بارے میں فرمایا: یہی وہ سات آیات ہیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں اور اسی سورت کو قرآن عظیم کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8474
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9787»
حدیث نمبر: 8474M
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ أُمُّ الْقُرْآنِ وَأُمُّ الْكِتَابِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ ام القرآن ہے، ام الکتاب ہے اور بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8474M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9789»
حدیث نمبر: 8475
عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكُمْ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ فَذَكَّرْتُهُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور مجھے بلایا، لیکن میں تو نہ آ سکا، حتیٰ کہ میں نے نماز مکمل کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ میں نے کہا: جی میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اسْتَجِیبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} … اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں؟ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد کرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سورۂ فاتحہ ہے،یہی وہ سات آیتیں ہیں اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8475
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4703 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15821»
حدیث نمبر: 8476
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بِخَيْرِ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اقْرَأْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى تَخْتِمَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن جابر! کیا میں تمہیں قرآن مجید کی بہترین سورت نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑھو {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ … }، یہاں تک کہ اس کو پورا کر لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8476
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن في المتابعات، ويشھد له ما قبله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17740»
حدیث نمبر: 8477
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ مِثْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سورۂ فاتحہ جیسی سورت نہ تورات میںنازل کی اور نہ انجیل میں،یہی بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ہیں اور یہ سورت میں (اللہ) اور میرے بندے کے درمیان تقسیم کی گئی ہے اور میرے بندے کے لیے وہی کچھ ہے، جو اس نے سوال کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ فاتحہ کو اللہ تعالی اور اس کے بندے کے مابین کیسے تقسیم کیا گیا ہے؟ درج ذیل حدیث میں تفصیل بیان کی گئی ہے: سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ) فَھِیَ خِدَاجٌ، ھِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ۔)) قَالَ أَبُوْ السَّائِبِ لِأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: إِنِّیْ أَ کُوْنُ أَ حْیَانًا وَرَائَ الإِْمَامِ، قَالَ أَ بُوْ السَّائِبِ: فَغَمَزَ أَ بُوْھُرَیْرَۃَ ذِرَاعِیْ، فَقَالَ: یَافَارِسِیُّ! اِقْرَأْھَا فِیْ نَفْسِکَ،إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ فَنِصْفُہَا لِیْ وَنِصْفُہَا لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ۔)) قَالَ أَ بُوْھُرَیْرَۃَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِقْرَئُ وْا یَقُوْلُ فَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ، وَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {اَلرَّحْمٰنِ الرْحِیْمِ} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: أَ ثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِی، فَیَقُوْلُ الْعَبْدُ: {مَالِکِ یَوْمِ الدِّیِن} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ، وَقَالَ: ھٰذِہٖبَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ،یَقُوْلُ الْعَبْدُ: {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} قَالَ: أَ جِدُھاَ لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سأَ لَ، قَالَ یَقُوْلُعَبْدِیْ: {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَ نْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: ھٰذَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَ لَ۔)) … جس نے نماز پڑھی اور اس میں اس نے ام القرآن یعنی سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، نامکمل ہے۔ ابو السائب نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: بسا اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، (تو اس وقت میں فاتحہ کی تلاوت کیسے کروں)؟ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے میرے بازو کو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیاکر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالی کہتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کیلئے وہ ہے جو وہ سوال کرے۔ سیّدناأبو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاتحہ پڑھو، جب بندہ {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتاہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے۔ جب بندہ {اَلرَّحْمَنِ الرْحِیْمِ} کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّیِن} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری شان بیان کی۔ اور اللہ تعالی کہتا ہے: یہ (اگلی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، جب بندہ کہتا ہے: {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ}کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میں اس (آیت کے دوسرے جملے کو) اپنے بندے کے لیے پاتا ہوں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا،جب بندہ کہتا ہے: {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَ نْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} تو اللہ تعالی فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا ہے۔ (مسلم: ۳۹۵، واللفظ لاحمد)
اس باب کی احادیث میں سورۂ فاتحہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے، یہی وہ عظیم سورت ہے، جس کو اس کے مضمون کی وجہ سے ہر نماز کی ہر رکعت میں فرض کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8477
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه الترمذي: 3125، والنسائي: 2/ 139 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21410»