کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
حدیث نمبر: 8469
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَفِيهِ ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اسی قسم کی اس سے طویل حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز، نَفْث اور نَفْخ سے کیا مراد ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ھَمْز سے مراد جنون اور دیوانگی ہے، جو آدم کے بیٹے پر طاری ہو جاتی ہے، پھراس جنون کی کیفیت ذکر کی، جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے، اور اس کے نَفْخ سے مراد تکبر اور نَفْث سے مراد شعر ہے۔ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۵۵۳) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اسی قسم کی اس سے طویل حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8469
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني ۔ أخرجه ابوداود: 775 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11473 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11493»
حدیث نمبر: 8470
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَقَاوَلَانِ وَأَحَدُهُمَا قَدْ غَضِبَ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ وَهُوَ يَقُولُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا ذَهَبَ عَنْهُ الشَّيْطَانُ قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ قُلْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ قَالَ هَلْ تَرَى بَأْسًا قَالَ مَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلیمان بن صرد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کو سنا جو آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے باتیں کر رہے تھے، ان میں سے ایک غضب ناک ہوگیا اورسخت غصہ میں آ گیا اور اپنے ساتھی کو برا بھلا کہنے لگا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے، اگر یہ کہے گا تو اس کا شیطان دور چلا جائے گا۔ یہ سن کر ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہا: تو یہ کلمہ کہہ: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ، لیکن اس نے آگے سے کہا: کیا تو مجھے پاگل سمجھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری میں ہَلْ تَرَی بَأْسًا کی بجائے ھَلْ تَرٰی بِیْ جُنُوْنًا کے الفاظ ہیں۔ ممکن ہے یہ آدمی اکھڑ مزاج بدوؤں سے ہو یا ابھی تک دین کی سمجھ بوجھ اور شریعت ِمطہرہ کے انوار و برکات سے فیضیاب نہ ہوا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی منافق ہو۔ معلوم ہوا کہ غصے کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ پڑھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8470
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6048، ومسلم: 2610 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27747»