کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8463
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْكِتَابَ وَاللَّبَنَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُ الْكِتَابِ قَالَ يَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا فَقِيلَ وَمَا بَالُ اللَّبَنِ قَالَ أُنَاسٌ يُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر کتاب اور دودھ کے بارے میں ڈر ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے منافق بھی سیکھتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ایمانداروں سے جھگڑتے ہیں۔ پھر کسی نے کہا: دودھ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ دودھ پینے کے لئے باہر وادیوں میں چلے جائیں گے اور جماعت سے خارج ہو جائیں گے اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … علم سے مراد یقینی دلیل، ظن غالب، نقلی دلیلیا شریعت کے مطابق عقلی دلیل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8463
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير : 17/ 816 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17451»
حدیث نمبر: 8464
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ قَالَ يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کی ہلاکت کا باعث کتاب اور دودھ ہے لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! کتاب اور دودھ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کریں گے اور جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا ہے اس کے علاوہ غلط تاویلیں کریں گے اورجانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو کر دیہاتوں میں چلے جائیں گے اورجماعت اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے میں جن لوگوں سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اس سے مراد مذکورہ بالا آیت میں مذکور یہ لوگ ہیں: {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ} … پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے۔ مسلمانوں کے چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ان کی طرف توجہ نہ دھریں۔ مُحْکَمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامر و نواہی، احکام و مسائل اور قصص و حکایات ہیں، جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا، اس کے برعکس مُتَشَابِھَات ہیں، مثلا اللہ تعالی کی ہستی، قضا وقدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ،یعنی ما ورا عقل حقائق، جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اسی لیے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے فتنے برپا کرتے ہیں، جیسے عیسائی ہیں، قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کو عبد اللہ اور نبی کہا ہے، یہ واضح اور محکم بات ہے، لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم میں عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جو کہا گیا ہے، اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدلال کرتے ہیں، وہ انہی مُتَشَابِھات کو بنیاد بناتے ہیں، ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پر عمل کرتا ہے اور مُتَشَابِھات کے مفہوم کو بھی محکمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8464
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17551»
حدیث نمبر: 8465
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي اثْنَتَيْنِ الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ أَمَّا اللَّبَنُ فَيَبْتَغُونَ الرِّيفَ وَيَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ وَيَتْرُكُونَ الصَّلَوَاتِ وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَيَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اپنی امت پر دو چیزوں کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن مجید اوردودھ، لوگ ہریالی، سبزہ تلاش کریں گے خواہشات کی پیروی کریں گے نمازیں چھوڑ دیں گے اورقرآن مجید منافق قسم کے لوگ سیکھیں گے اور اس کو ذریعہ بنا کر ایمانداروں سے جھگڑیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … دودھ کی تلاش میں دیہاتوں میں نکل جائیں گے، جس کا نتیجہ جماعت اور جمعہ کو چھوڑنے کی صورت میںنکلے گا، مزید اگلی دو روایات کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8465
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17557»
حدیث نمبر: 8466
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْصِفُهَا فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَضَيْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ وَفِي رِوَايَةٍ كَمَا قَاتَلَ عَلَى تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ قَالَ فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کررہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی مرمت کے لئے پیچھے رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے رہے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلتے رہے، پھر آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ اس قرآن مجید کی تاویل و تفسیر کے مطابق لڑیں گے، جیسے میں لڑا ہوں۔ ہم نے گردنیں اٹھا کر دیکھا کیونکہ ہمارے اندر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ آدمی تو جوتا مرمت کرنے والا ہے۔ پس ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری سنانے کے لیے ان کے پاس گئے، تو گویا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ پہلے ہی سنے ہوئے تھے (اس لیے خوشی کا اظہار نہیں کیا)۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر کافروں سے لڑائی کی، پھر اپنے دورِ خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق خوارج سے لڑائی کی، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں بھی حق پر تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8466
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 64، وابويعلي: 1086، وابن حبان: 6937 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11795»
حدیث نمبر: 8467
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیّدناابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میںداخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ او رتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: باب فیمن تأول القرآن او تدبرہ وھو جاھل بالسنۃ (اس شخص کے بیان میں، جو قرآن کی تاویل کرتا ہے یا اس میں غور و خوض کرتا ہے، جبکہ وہ سنت سے جاہل ہے) پھر انھوں نے کہا: تمام اہل بدعت نے سنتوں سے اعراض کیا اور قرآن مجید کی وہ تاویل بیان کی، جو سنتوں میں پیش کی گئی تفسیر کے مخالف ہے، پس وہ خود بھی گمراہ ہو گئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کر دیا۔ ہم اللہ تعالی کی رسوائی سے پناہ چاہتے ہیں اور اس سے توفیق اور عصمت و سا لمیت کا سوال کرتے ہیں۔ میں (البانی) کہتا ہوں: ان بدعتیوں کی گمراہی کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالی کے اس فرمان سے غافل ہیں، جس میں اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منصب بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْیَتَفَکَّرُوْنَ} (سورۂ نحل: ۴۴) … اور ہم نے یہ ذکر (کتاب) آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا، آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں۔ (صحیحہ: ۲۷۷۸)
کتنے تعجب کی بات ہے کہ آج کل مخصوص فقہ کے دعویدار لوگ قرآن مجید کی آیات کا سہارا لے کر احادیث کو ردّ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سبحان اللہ! جس ہستی پر یہ کتاب ِ عظیم نازل ہوئی، جس شخصیت کو تشریحِ قرآن کا عہدہ سونپا گیا، اس کے فرمودات ِ عالیہ کا قرآن سے ٹکراؤ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ احادیث ِ نبویہ سے دوری، خواہش پرستی، مخصوص مسلک کی بے جا طرفداری اور اندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔ مزید اسی کتاب کے عنوان حدیث نبوی بھی حجت ہے کا مطالعہ کریں۔ رہا مسئلہ کہ دودھ کی وجہ سے ہلاکت کا، تو کیایہ درست ہو گا کہ دودھ سے مراد صرف (۱) دودھ ہی لیا جائے یا (۲) اس کی تمام مصنوعات، یایہ کہا جائے کہ (۳)دودھ کو بطور مثال ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ لوگ ماکولات و مشروبات کے پیچھے پڑ جائیں گے؟ اگر دودھ سے دودھ ہی مراد لیا جائے، تو ممکن ہے کہ ماضی میں ایسے لوگ رہے ہوں جنھوں نے دودھ کی وجہ سے مساجد سے بیزاری کا اظہار کیا ہو یا پھر مستقبل میں ایسے لوگوں کا وجود پایا جائے گا۔ اگر عصر حاضر کے لوگوں کے کردار پر
نگاہ ڈالی جائے تو تیسرا معنی زیادہ مناسب معلوم ہو رہا ہے، کیونکہ لوگ ہوٹلوں، بالخصوص آبادی سے دور طعام گاہوں، آئس کریم مرکزوں اور کھیر گاہوں غرضیکہ زبان کے چسقوں اور دولت کی نمائش میں پڑ کر نماز اور جمعہ سے غافل ہو کر رہ گئے ہیں، ہر ایک مالدار کو بڑے بڑے ہوٹلوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کا علم ہے، جس کا وہ لحاظ بھی کرتا ہے، لیکن وہ جاہل ہو گا تو پانچ نمازوں کے اوقات سے، خطبۂ جمعہ کی ابتدا کے وقت سے اور ان گھڑیوں کے تقاضے پورے کرنے سے۔ مساجد کے قریب واقع ہوٹلوں میں دودھ سوڈے کے بہانے آدھی آدھی رات تک بیٹھیں رہیں گے، لیکن نمازِ عشا پڑھنے کی توفیق نہیں ہو گی۔ جنگلوں کی طرف نکل جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چراگاہوں میں جا کر دودھ تلاش کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8467
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي له عن ابي امامة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22177، 22179)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22532»