کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
حدیث نمبر: 8453
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَمْ تَقْرَءُونَ سُورَةَ الْأَحْزَابِ قَالَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ آيَةً قَالَ لَقَدْ قَرَأْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الْبَقَرَةِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْهَا وَإِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے پوچھا: تم لوگ سورۂ احزاب کی کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ میں (زِرّ بن حبیش) نے کہا: کوئی چھہتر ستتر آیات، انھوں نے کہا: میں نے اس سورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پڑھا تھا، یہ سورۂ بقرہ جتنی تھییا اس سے بھی لمبی تھی اور اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔
حدیث نمبر: 8453M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ كَأَيِّنْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْأَحْزَابِ أَوْ كَأَيِّنْ تَعُدُّهَا قَالَ قُلْتُ لَهُ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ آيَةً فَقَالَ قَطُّ لَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتُعَادِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَقَدْ قَرَأْنَا فِيهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) زر کہتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم سورۂ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر آیتیں،انھوں نے کہا: بس، میں نے اس سورت کو دیکھا تھا کہ یہ سورۂ بقرہ کے برابر تھی، ہم نے اس میں یہ آیت بھی پڑھی تھی: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ … جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (یعنی شادی شدہ مرد اور عورت) زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ جاننے والے حکمت والا ہے۔)
حدیث نمبر: 8454
عَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ ابْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَكْتُبَانِ الْمَصَاحِفَ فَمَرُّوا عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ فَقَالَ زَيْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَكْتِبْنِيهَا قَالَ شُعْبَةُ فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَا تَرَى أَنَّ الشَّيْخَ إِذَا لَمْ يُحْصَنْ جُلِدَ وَأَنَّ الشَّابَّ إِذَا زَنَى وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کثیر بن صلت کہتے ہیں: سیدنا ابن عاص رضی اللہ عنہ اورسیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مصحف لکھتے تھے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیت بھی پڑھتے تھے: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکن یوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب بوڑھا آدمی شادی شدہ نہ ہو تو اس کو زنا کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے ہیں اور جب کوئی شادی شدہ نوجوان زنا کر لے تو اس کو رجم کیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس منسوخ آیت میں بوڑھے مرد اور عورت کا ذکر اتفاقاً کیا گیا ہے، کیونکہ عام طور پر اس عمر کے لوگ شادی شدہ ہی ہوتے ہیں، وگرنہ رجم کی سزا اس زانی کے لیے ہے، جو شادی شدہ ہو۔
حدیث نمبر: 8455
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَعَاتُ الْكَبِيرِ عَشْرًا فَكَانَتْ فِي وَرَقَةٍ تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِي فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِهِ وَدَخَلَتْ دُوَيْبَّةٌ لَنَا فَأَكَلَتْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رجم کی آیت اور بڑے آدمی کے لئے دس دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت کرنے والی آیت،یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ میں پڑی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمارہوئے اور ہم آپ کے ساتھ مشغول ہوگئے تو ہمارا ایک جانور اندر داخل ہوا اور وہ ورقہ کھا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … رضاعت کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ۔ … اس بارے میں جو قرآن میں نازل کیا گیا وہ دس بار مقرر شدہ دودھ پینا تھا، جو حرام کر دیتا تھا، پھر ان کو پانچ بار دودھ پینے سے منسوخ کردیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ان کو قرآن مجید میں پڑھا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۳۴)
اب رضاعت کا حکم پانچ دفعہ دودھ پینے سے ہی ثابت ہو گا، البتہ ان الفاظ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
اب رضاعت کا حکم پانچ دفعہ دودھ پینے سے ہی ثابت ہو گا، البتہ ان الفاظ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 8456
عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ قَالَ فَقَرَأَ عَلَيَّ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ [سورة البينة: ١-٦] قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ثُمَّ قَرَأَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا ¤ (8456م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ قَالَ فَقَرَأَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ [سورة البينة: ١] قَالَ فَقَرَأَ فِيهَا وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَلِكَ الدِّينَ الْقَيِّمَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ثُمَّ قَرَأَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پرسورۂ بینہ کی تلاوت کی: {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَـہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} شعبہ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد مزید آیات پڑھیں، پھر اس آیت کی تلاوت کی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} پھر سورت کے باقی حصے کے ذریعے اس کی تکمیل کی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔
وضاحت:
فوائد: … اس سورت کی درج ذیل آیات کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے: إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ … … لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ}
حدیث نمبر: 8457
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَيُحَدِّثُنَا فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی حکم نازل ہوتا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو بیان کرتے، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ … بیشک ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے لیے مال اتاراہے، اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تو یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی ہو، اگر اس کے لئے دو وادیاں ہوں، تو وہ پسند کرتا ہے کہ تیسری بھی ہو جائے، دراصل آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف توبہ کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تمام آیات منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 8458
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں یہ آیات پڑھا کرتے تھے: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} اگرآدم کے بیٹے کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، آدم کے بیٹے کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آیات بھی منسوخ ہو گئی ہیں۔
حدیث نمبر: 8459
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ كَمْ مَالُكَ قَالَ أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى الثَّالِثَ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ قَالَ عُمَرُ مَا هَذَا فَقُلْتُ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ قَالَ فَمَرَّ بِنَا إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ فَقَالَ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ أُبَيٌّ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأُثْبِتُهَا فَأَثْبَتَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، آپ ؓکبھی تو اس کے سر کی جانب دیکھتے اور کبھی اس کے پاؤں کی طرف دیکھتے کہ اس پر تنگدستی کی کوئی علامت بھی ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: چالیس اونٹ ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغٰی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} … اگر آدم کے بیٹے کی سونے کی دو وادیاں ہوں، تو یہ تیسری تلاش کرتا ہے، آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسے ہییہ آیات پڑھائیں تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر کیا میں ان کو برقرار رکھوں، پس پھر انھوں نے ان کو برقرار رکھا۔
حدیث نمبر: 8460
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا قِيلَ لِسُفْيَانَ فِيمَنْ نَزَلَتْ قَالَ فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ ¤ (8460م) وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ پھر دوسرے صحابہ کی گواہی کی وجہ سے ان آیات کو قرآن مجید سے مٹا دیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 8461
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر علم کے قرآن مجید کے بارے میں بات کی، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔
حدیث نمبر: 8462
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ [سورة آل عمران: ٧] فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے بچو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ قراء صحابہ کی ایک جماعت تھی، جن کو سریۂ بئر معونہ میں قتل کر دیا گیا تھا، ان کی تفصیلیہ ہے: سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ نَّ نَّبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَ تَاہُ رِعْلٌ وَذَکْوَانُ وَعُصَیَّۃُ وَبَنُو لِحْیَانَ فَزَعَمُوْا أَ نَّہُمْ قَدْأَ سْلَمُوْا فَاسْتَمَدُّوْہُ عَلٰی قَوْمِہِمْ فَأَ مَدَّھُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمَئِذٍ بِسَبْعِیْنَ مِنَ الْأَ نْصَارِ، قَالَ أَ نَسٌ کُنَّا نُسَمِّیْہِمْ فِیْ زَمَانِہِمُ الْقُرَّائَ، کَانَوا یَحْتَطِبُونَ بِالنَّھَارِ وَیُصَلُّوْنَ بِاللَّیْلِ، فَانْطَلَقُوْا بِہِمْ حَتّٰی إِذَا أَ تَوْا بِئْرَ مَعُوْنَۃَ غَدَرُوْا بِہِمْ فَقَتَلُوْھُمْ، فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَہْرًا فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَدْعُوْا عَلٰی ھٰذِہِ الْأَ حْیَائِ رِعْلٍ وَ ذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِی لِحْیَانَ قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنَا أَ نَسٌ أَ نَّہُمْ قَرَأُوْا بِہِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِی حَدِیْثِہِ إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَ نَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا۔ ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ أَوْ رُفِعَ۔ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے یہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ جب بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبج کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَ نَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۰۶۴، ۴۰۸۸، ۴۰۹۰، واللفظ لاحمد)
یہ بعض آیات کے منسوخ ہونے کی چند مثالیں تھیں۔
یہ بعض آیات کے منسوخ ہونے کی چند مثالیں تھیں۔