حدیث نمبر: 8450
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ يَعْرِضُ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید پیش کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال انھوں نے دو بار پیش کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … بعض آیات منسوخ ہو چکی تھیں، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کے نسخ کے قائل نہیں تھے، ممکن ہے کہ ان کو نسخ پر دلالت کرنے والی احادیث نہ ملی ہوں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں ایک آیت بھی پیش کر دی کہ قرآن مجید کا بعض حصہ منسوخ ہو سکتا ہے۔ قرآن مجیدمیںنسخ کی درج ذیل صورتیںہیں: (۱)۔ قراء ت کا منسوخ ہو جانا، لیکن حکم کا باقی رہنا، جیسے اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِنْ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ (جب شیخ اور شیخہیعنی شادی شدہ مر دو زن زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے کمال حکمت والا ہے۔) (۲)۔ تلاوت کاباقی رہنا، لیکن حکم کا ختم ہو جانا، جیسے {وَعَلَی الَّذِینَیُطِیقُونَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ} (اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں، مسکین کا فدیہ دینا) (۳)۔ قرائت اور حکم دونوں کا ختم ہو جانا، جیسے عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ (دس بار دودھ پینا حرام کرتا ہے)
پہلے دس دفعہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی تھی، پھر ان کو پانچ دفعہ دودھ پینے کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا۔ (مسلم: ۱۴۵۲)
پہلے دس دفعہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی تھی، پھر ان کو پانچ دفعہ دودھ پینے کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا۔ (مسلم: ۱۴۵۲)
حدیث نمبر: 8451
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلِيٌّ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ كَثِيرًا مِنْ لَحْنِ أُبَيٍّ وَأُبَيٌّ يَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ أَخَذْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ لِشَيْءٍ وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا [سورة البقرة: ١٠٦] ¤ (8451م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ شَيْئًا وَإِنَّ أُبَيًّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ وَأُبَيٌّ يَقُولُ لَا أَدَعُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ بَعْدَ أُبَيٍّ كِتَابٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریں یا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیں یا اس کی مثل لے آتے ہیں۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سماع کے بعد بھی قرآن مجید کا ایسا حصہ یا حکم نازل ہوا، جس نے ان کی سنی ہوئی چیز کو منسوخ کر دیا تھا، لیکن ان کو اس کا علم نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 8452
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَتَرَكَ آيَةً فَجَاءَ أُبَيٌّ وَقَدْ فَاتَهُ بَعْضُ الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَوْ أُنْسِيتَهَا قَالَ لَا بَلْ أُنْسِيتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور قراء ت کرتے کرتے ایک آیت چھوڑ دی، جب میں آیا تو نماز کا کچھ مجھ سے چھوٹ گیا تھا، بہرحال جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں بھول گیاہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی بعض آیات منسوخ ہو گئیں تھی، بعض صحابہ کو ان کے نسخ کا علم نہیں تھا، لیکن ہمیشہ علم کو عدم علم پر مقدم سمجھا جاتا ہے، یعنی جس کو زائد چیز کا علم ہے، اس کی بات کو ترجیح دی جائے گی۔