کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8448
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْكِتَابَ عَلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ فَإِذَا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ أَصْبَحَ وَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ فَلَمَّا كَانَ فِي الشَّهْرِ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ عَرَضَ عَلَيْهِ عَرْضَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … رمضان، قرآن مجید کا دور اور جبریل علیہ السلام سے ملاقات، ان امور کی برکت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ وفات والے سال دو بار دور کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ناسخ و منسوخ اور ہر قسم کی تبدیلی کا اچھی طرح پتہ چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ میں مزید جلاء آ جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: أَسَرَّ إِلَیَّ أَنَّ جِبْرِیلَ کَانَ یُعَارِضُنِی الْقُرْآنَ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَإِنَّہُ عَارَضَنِی الْعَامَ مَرَّتَیْنِ وَلَا أُرَاہُ إِلَّا حَضَرَ أَ جَلِی۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے رازدارانہ انداز میں بات کی کہ جبریل علیہ السلام ہر سال مجھ سے قرآن مجید کا ایک بار دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال دو بار دور کیا ہے، میرایہی خیال ہے کہ میری وفات کا وقت آچکا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۵۳)
حدیث نمبر: 8449
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرَائِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید رضی اللہ عنہ والی آخری ہے، انہوں ! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس میںسیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بھی بیان ہے، کیونکہ ان کی قراء ت اِس آخری دور اور پیشی کے مطابق تھی۔
حدیث نمبر: 8449M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ قَالُوا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔
وضاحت:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید پیش کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال انھوں نے دو بار پیش کیا تھا۔