کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس کا بیان کہ قرآن کی سو رتوں اور آیات میں سے کون سا حصہ آخر میں نازل ہوا
حدیث نمبر: 8445
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَامِلَةً بَرَاءَةُ وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ يَسْتَفْتُونَكَ إِلَى آخِرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کامل سورت جو آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی وہ سورۂ براء ت ہے اور سب سے آخرمیں نازل ہونے والی آیت سورۂ نساء کی آخری آیت{یَسْتَفْتُونَکَ … } ہے۔
حدیث نمبر: 8446
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَإِنَّهَا آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَسَأَلْتُهَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الْقُرْآنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم سورۂ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: یہ نازل ہونے والی آخری سورت ہے،لہٰذا اس میں جو حلال پاؤ، اسے حلال سمجھو اورجس چیز کو اس میں حرام پاؤ، اسے حرام سمجھو۔ پھر میں نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، انھوں نے کہا: آپ کا اخلاق قرآن مجید تھا۔
حدیث نمبر: 8447
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قرآن مجید کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت سود والی ہے، لیکن ہوا یوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی تک اس کی تفسیر نہیں کی تھی، پس سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں سود کا شبہ ہو، اس کوبھی چھوڑ دو۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن کے آخر میں نازل ہونے والے حصے کے بارے میں مزید روایات: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سب سے آخر میں سورۂ توبہ کی آیت {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ … } نازل ہوئی، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۶۲۸)، لیکنیہ حدیث ضعیف ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آخِرُ سُوْرَۃٍ نَزَلَتْ {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} … سب سے آخر میں سورۂ نصر نازل ہوئی۔ (صحیح مسلم: ۵۳۴۹)
یہ کل چار پانچ روایات ہیں، ان میں جمع تطبیق کی صورت کیا ہے؟ جبکہ حافظ سیوطی نے الاتقان فی علوم القرآن میں اس قسم کے کئی آثار ذکر نے کے بعد کہا: ان اقوال کے ساتھ ساتھ اس آیت {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ} کا مسئلہ بھی اشکال والا ہے، کیونکہیہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں نازل ہوئی، اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ اس سے پہلے تمام فرائض اور احکام کی تکمیل ہو چکی تھی، …، حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ سود، قرض اور کلالہ والی آیت اس کے بعد نازل ہوئیں۔ قاضی ابو بکر نے الانتصار میں کہا: یہ اقوال ہیں، مرفوع احادیث نہیں ہیں، ہر صحابی نے اجتہاد اور ظن
غالب کی روشنی میں بات کی ہے (کہ فلاں سورت یا آیت سب سے آخر میںنازل ہوئی)۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان اقوال کے قائلین کے مقاصد مختلف ہوں، مثلافلاں مضمون سے متعلقہ سب سے آخری آیتیہ ہے، سب سے آخر میں نازل ہونے والی مکمل سورت فلاں ہے، آیت فلاں ہے۔ واللہ اعلم۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آخِرُ سُوْرَۃٍ نَزَلَتْ {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} … سب سے آخر میں سورۂ نصر نازل ہوئی۔ (صحیح مسلم: ۵۳۴۹)
یہ کل چار پانچ روایات ہیں، ان میں جمع تطبیق کی صورت کیا ہے؟ جبکہ حافظ سیوطی نے الاتقان فی علوم القرآن میں اس قسم کے کئی آثار ذکر نے کے بعد کہا: ان اقوال کے ساتھ ساتھ اس آیت {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ} کا مسئلہ بھی اشکال والا ہے، کیونکہیہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں نازل ہوئی، اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ اس سے پہلے تمام فرائض اور احکام کی تکمیل ہو چکی تھی، …، حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ سود، قرض اور کلالہ والی آیت اس کے بعد نازل ہوئیں۔ قاضی ابو بکر نے الانتصار میں کہا: یہ اقوال ہیں، مرفوع احادیث نہیں ہیں، ہر صحابی نے اجتہاد اور ظن
غالب کی روشنی میں بات کی ہے (کہ فلاں سورت یا آیت سب سے آخر میںنازل ہوئی)۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان اقوال کے قائلین کے مقاصد مختلف ہوں، مثلافلاں مضمون سے متعلقہ سب سے آخری آیتیہ ہے، سب سے آخر میں نازل ہونے والی مکمل سورت فلاں ہے، آیت فلاں ہے۔ واللہ اعلم۔