حدیث نمبر: 8426
عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَنِي بُجَيْلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ أَيَاءً تَجِدُهَا أَوْ أَلِفًا مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَكُلُّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذِهِ قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ الصَّلَاةِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَلَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَكِنَّهُ إِذَا قَرَأَهُ فَرَسَخَ فِي الْقَلْبِ نَفَعَ إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَجَاءَ عَلْقَمَةُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شفیق بن عبداللہ کہتے ہیں: بنو بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اس آیت کو آپ کس طرح پڑھتے ہیں،یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اس کے علاوہ تو نے سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں دو رکعت نماز میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو، بہترین نماز وہ ہے، جس میں رکوع و سجود اچھے انداز میں کئے جائیں،کچھ لوگ قرآن تو پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلیوں کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب آدمی قرآن پڑھتا اور وہ اس کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو تب قرآن فائدہ دیتا ہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو پہچانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن میں سے دو دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے، اتنے میں علقمہ آئے اور وہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے، ہم نے علقمہ سے کہا: ان سے ان ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں دریافت کرو، جن میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے، پس علقمہ ان کے پاس گئے اور پھر ہمارے پاس آ کر کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں،یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف ِ قرآن کے مطابق تھا۔
وضاحت:
فوائد: … آسِن میں دو لغتیں ہیں: آسِن اور أَ سِن۔ یاء کے ساتھ اس لفظ کی کوئی قراء ت نہیں ہے، ممکن ہے کہ اس آدمی کا سوال صحیح نہ ہو، اس لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے سوال کا جواب ہی نہیں دیا، بلکہ اس کو ایک سوال کی طرف لگا دیا۔ ان بیس سورتوں کی تفصیلیہ ہے: علقمہ اور اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ تَی ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی أَ قْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ فَقَالَ أَ ہَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ وَنَثْرًا کَنَثْرِ الدَّقَلِ لٰکِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَقْرَأُ النَّظَائِرَ السُّورَتَیْنِ فِی رَکْعَۃٍ النَّجْمَ وَالرَّحْمٰنَ فِی رَکْعَۃٍ وَاقْتَرَبَتْ وَالْحَاقَّۃَ فِی رَکْعَۃٍ وَالطُّورَ وَالذَّارِیَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَإِذَا وَقَعَتْ وَنُونَ فِی رَکْعَۃٍ وَسَأَ لَ سَائِلٌ وَالنَّازِعَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَوَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ وَعَبَسَ فِی رَکْعَۃٍ وَالْمُدَّثِّرَ وَالْمُزَّمِّلَ فِی رَکْعَۃٍ وَہَلْ أَ تٰی وَلَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فِی رَکْعَۃٍ وَعَمَّ یَتَسَاء َلُونَ وَالْمُرْسَلَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَالدُّخَانَ وَإِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ فِی رَکْعَۃٍ۔ قَالَ أَ بُو دَاوُد ہَذَا تَأْلِیفُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ۔ … ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں مفصل سورتیں ایک رکعت میںپڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا تم شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو؟ یا سوکھی ردی کھجوروں کی طرح بکھیرتے ہو؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یکساں قسم کی دو دو سورتیں ایک رکعت میںپڑھا کرتے تھے، سورۂ نجم اور سورۂ رحمن ایک رکعت میں، سورۂ قمر اور سورۂ حاقہ ایک رکعت میں، سورۂ طور اور سورۂ ذاریات ایک رکعت میں، سورۂ واقعہ اور سورۂ قلم ایک رکعت میں، سورۂ معارج اور سورۂ نازعات ایک رکعت میں، سورۂ مطففین اور سورۂ عبس ایک رکعت میں، سورۂ مدثر اور سورۂ مزمل ایک رکعت میں، سورۂ دہر اور سورۂ قیامہ ایک رکعت میں، سورۂ نبأ اور سورۂ مرسلات ایک رکعت میں اور سورۂ دخان اور سورۂ تکویر ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ امام ابوداود نے کہا: یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف تھی۔
حدیث نمبر: 8426M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَيْفَ تَعْرِفُ هَذَا الْحَرْفَ مَاءٌ غَيْرِ يَاسِنٍ أَمْ آسِنٍ فَقَالَ كُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَجْمَعَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَالَ أَهَذًّا الشِّعْرِ لَا أَبَا لَكَ قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يَقْرِنُ قَرِينَتَيْنِ قَرِينَتَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ وَكَانَ أَوَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمَنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) زرّ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کا اس قراء ت کے بارے میں کیا خیال ہے مائٍ غَیْرِ آسِن ہے یا یَاسِن ؟ آگے سے انھوں نے کہا: کیا تو نے اس کے علاوہ سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں تمام مفصل سورتیں ایک ر کعت میں پڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی، تیرا باپ نہ رہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو جانتا ہوں،جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو سورتیں کر کے پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل کی ابتداء سے شروع کر تے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں پہلی مفصل سورت رحمن تھی۔