حدیث نمبر: 8420
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عُتِيًّا [سورة الشورى: ٤٧] أَوْ عُسِيًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تمام سنتیں یاد کی ہیں، البتہ مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ رسول اللہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراء ت کرتے تھے یا نہیں، نیز میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عُتِیًّا} والی آیت میں لفظ {عُتِیًّا} پڑھتے تھے یا{عُسِیًّا} (دونوں الفاظ کے معانی بڑھاپے اور عمر رسیدگی کے ہیں)
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید کی متواتر قراء ت یوں ہے: {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا}