کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قراء توں کے بارے میں عام روایات اور اس مسئلہ میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 8412
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَمَارَيْنَا فِي سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقُلْنَا خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ آيَةً سِتٌّ وَثَلَاثُونَ آيَةً قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُنَاجِيهِ فَقُلْنَا إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي الْقِرَاءَةِ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا كَمَا عُلِّمْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی ایک سورت کے بارے میں ہمارا اختلاف ہو گیا، کسی نے کہا کہ پینتیس آیتیں ہیں اورکسی نے چھتیس آیتوں کی رائے دی، پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشی کرتے ہوئے پایا، ہم نے کہا: قراء ت کے بارے میں ہمارا اختلاف ہو گیا ہے،یہ سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ اس کتاب کو ایسے پڑھو، جیسے تم کو تعلیم دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 8413
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقُمْنَا جَمِيعًا فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ هَذَا فَقَرَأَ قِرَاءَةً غَيْرَ قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَآ فَقَرَآ فَقَالَ أَصَبْتُمَا فَلَمَّا قَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قَالَ كَبُرَ عَلَيَّ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي غَشِيَنِي ضَرَبَ فِي صَدْرِي فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَقًا فَقَالَ يَا أُبَيُّ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأَهُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں تھا، ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے ایسی قراء ت کی، جس کا میں نے انکار کیا، اتنے میں ایک اور آدمی داخل ہوا تو اس نے پہلے والے فرد کی قراء ت کے خلاف قراء ت کی، ہم اٹھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے جو قراء ت کی ہے، میں اسے بھی نہیں جانتا، پھر یہ دوسرا داخل ہوا ہے، اس نے اس کے خلاف قراء ت کی ہے، اس کو بھی میں نہیں جانتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے کہا: پڑھو۔ جب انہوں نے تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو درست قرار دیا تو یہ بات مجھ پر بہت گراں گزری، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ گرانی مجھ پر غالب آ گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، تو مجھے اتنا پسینہ آیا کہ میں بھیگ گیا اور مجھے ایسا لگا کہ میں ڈر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہاہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابی! میرے ربّ تعالیٰ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھوں، میں نے درخواست کی کہ میری امت پر آسانی کرو، پس اللہ تعالیٰ دو قراء توں پر پڑھنے کا پیغام بھیجا، میں نے پھر گزارش کی کہ میری امت پر آسانی کرو، پس اللہ تعالیٰ نے سات قراء توں پر قرآن کی تلاوت کرنے کا پیغام بھیجا، نیز جتنی دفعہ آپ نے مطالبہ کیا، اتنے مجھ سے سوال کر سکتے ہو، میں نے کہا: اے اللہ! میری امت کو بخش دو، اے اللہ ! میری امت کو بخش دو، تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے موخر کر دی ہے جس دن مخلوق میرے پاس آئے گی،یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔
وضاحت:
فوائد: … مراد یہ ہے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے سامنے سفارش کریں کہ وہ اپنی مخلوق کا حساب و کتاب شروع کرے، اس کو شفاعت ِ عظمی کہتے ہیں۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں احادیث نمبر (۱۳۰۹۷)(۱۳۱۰۴) اور ان کے فوائد۔
حدیث نمبر: 8414
عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَقَالَ مَنْ أَقْرَأَكَ هَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ آيَةُ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَرَأَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ الْآخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَرَأَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيَّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَحْسَنْتُمْ وَلَا تَمَارَوْا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ أَوْ آيَةُ الْكُفْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ قرآن مجید کی آیت پڑھ رہا تھا،انہوں نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے یہ آیت پڑھائی ہے؟ اس نے کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، انہوں نے کہا: لیکن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور انداز میں پڑھائی ہے، پس وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت اس طرح ہے، پھر اس نے اس کی تلاوت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت اس طرح نازل نہیں ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، اس میں سے جس کے مطابق بھی پڑھو، درست ہے، اس قرآن میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ اس میں جھگڑا کرنا کفر یا کفر کی علامت ہے۔
حدیث نمبر: 8415
عَنْ أَبِي جُحَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کا قرآن مجید کی ایک آیت کے بارے میں اختلاف ہوا، پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
حدیث نمبر: 8416
عَنْ أَبِي جُحَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 8416M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … علامہ سندھی نے کہا: اس حدیث کے دوسرے حصے کا معنییہ ہے کہ عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی جگہ پر غَفُوْرًا رَحِیْمًا یا اس کے برعکس پڑھنا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔ طبری اور ابن عبد البر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ، فَاقْرَؤُوْا وَلاَ حَرَجَ، وَلٰکِنْ لاَ تَخْتِمُوا ذِکْرَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ، وَلاَ ذِکْرَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ۔)) … بیشکیہ قرآن سات قسم کی لغات پر نازل ہوا، پس تم کسی بھی لغت میں اس کی تلاوت کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، البتہ اتنا خیال رکھو کہ رحمت کے ذکر کو عذاب کے ذکر کے ساتھ اور عذاب کے ذکر کو رحمت کے ذکر کے ساتھ ختم نہ کرو۔
حدیث نمبر: 8417
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ جَلَسْتُ أَنَا وَأَخِي مَجْلِسًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَخِي وَإِذَا مَشْيَخَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ فَجَلَسْنَا حَجْرَةً إِذْ ذَكَرُوا آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَتَمَارَوْا فِيهَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ يَرْمِيهِمْ بِالتُّرَابِ وَيَقُولُ مَهْلًا يَا قَوْمِ بِهَذَا أُهْلِكَتِ الْأُمَمُ مِنْ قَبْلِكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ وَضَرْبِهِمُ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلْ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص علیہ السلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اور میرے بھائی کے مابین ایک مجلس ہوئی، اس میں بیٹھنامیرے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے، تفصیل یہ ہے کہ میں اور میرا بھائی آئے اور بزرگ صحابہ کی ایک جماعت کو پایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے ان میں تفریق ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور ایک کونے میں بیٹھ گئے، انہوں نے ایک آیت کا ذکر کیااور پھر اس میں جھگڑا کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آ گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان صحابہ پر مٹی پھینکی اور فرمایا: لوگو! رک جاؤ، تم میں سے پہلے والی امتیں اسی اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں،انہوں نے اپنے انبیاء پر اختلاف کیا اور کتاب کے بعض حصے کو بعض سے ٹکرایا، بیشک قرآن مجید اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا بعض بعض کی تکذیب کر رہا ہو، بلکہ اس کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، پس جس حصے کا تمہیں علم ہو جائے، اس پر عمل کرو اور جس حصے کا علم نہ ہو سکے، اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید میں ممنوعہ جھگڑے سے کیا مراد ہے؟ درج ذیل بحث پر توجہ کریں: کتنی قابل غور بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مجلس کو ختم کر دینے کا حکم دیا ہے، جس میں اختلافِ قرآن پر بحث شروع ہونے لگے،سیدنا جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَؤُوْا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَیْہِ قُلُوْبُکُمْ، فَاِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا عَنْہُ۔)) … قرآن مجید اس وقت تک پڑھا کرو، جب تک تمھارے دل اس (کے معانی) پر متفق رہیں، جب تم میں (اس کے مفاہیم سمجھنے میں) اختلاف پڑ جائے تو کھڑے ہو جا یاکرو۔ (بخاری، مسلم) یعنی اس مجلس میں بیٹھنا ہی منع ہے، جو قرآن مجید میں اختلاف کرنے پر مشتمل ہو۔ لیکن اس کتاب میں جھگڑا کرنے سے مراد کیا ہے؟ شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے میں شک کرنا، یا اس موضوع پر غور و خوض کرنا کہ یہ کتاب محدَث ہے یا قدیم،یا متشابہ آیات میں مجادلانہ انداز میں بحث مباحثہ کرنا۔ ان سب امور کا نتیجہ انکار اور کفر کی صورت میں نکلتا ہے۔ یا قرآن مجید کی سات قراء ات پر مناظرہ کرنا اور کسی ایک قراء ت کو حق تسلیم کر لینا اوردوسری کو باطل یا تقدیر والیآیات پر غیر ضروری بحث کرنا یا ان آیات کو موضوعِ بحث بنا کر مضامینِ قرآن میں ٹکراؤ پیدا کرنا، جن کے معانی میں ظاہری طورپر تضاد پایا جاتا ہے۔ (عون المعبود: ۴۶۰۳ کے تحت، مفہوم پیش کیا گیا)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد کہا: اس کا معنییہ ہے کہ دو افراد ایک آیت کے بارے میں مجادلانہ گفتگو کریں، نتیجتاً ایک اس کا انکار کر دے، یا اس کو ردّ کرے یا اس کے بارے میں شک میں پڑ جائے۔ ایسا جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (صحیحہ: ۳۴۴۷)
ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جھگڑنے سے مراد ایک دوسرے کا ردّ کرنا ہے، مثلا ایک آدمی ایک آیت سے ایک استدلال پیش کرتا ہے، جبکہ دوسرا آدمی کسی دوسری آیت سے اس کے الٹ استدلال کر کے اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، حالانکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے کو چاہیے کہ ایسی آیات میں جمع و تطبیق کی کوئی صورت پیدا کرے، تاکہ یہ نقطہ واضح ہو جائے کہ قرآن کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، اگر وہ مختلف آیات میں توافق نہ دے سکے تو اس کو اپنی سمجھ کی کوتاہی سمجھے اور ان آیات کو اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر دے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَئْیٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ} (سورۂ نسائ: ۵۹) پھر انھوں نے ایک مثال دی: ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ} … کہہ دیجئے کہ ہر چیز اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ جبکہ دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ} (سورۂ نسائ: ۹۷) تجھے جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے تو وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔
تناقض: … پہلی آیت میں ہر چیز کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا گیا اور دوسری آیت میں برائی کو بندے کی طرف منسوب کیا گیا۔ (اگر دوسری آیات، احادیث اور اجماعِ امت کو دیکھا جائے تو سب سے بہترین جمع و تطبیقیہ ہے کہ برائی بھی اللہ تعالی کی مشیت سے ہوتی ہے، لیکنیہ برائی نفس کے گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا،یعنییہ نفس کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ} (سورۂ شوری: ۳۰) تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے، اوربہت سے گناہ تو (اللہ) معاف ہی فرما دیتا ہے۔) لیکن اگر تقدیر کا منکر اس بات پر ڈٹ جائے کہ برائی کا خالق انسان خود ہے اور اس قسم کی آیات کو انکارِ تقدیر پر بطورِ دلیل پیش کرے، تو یہی مجادلہ ہو گا، جس سے منع کیا گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/ ۴۹۳، مفہوم لکھا گیا، بریکٹ والا پیراگراف راقم الحروف کی طرف سے لکھا گیا)
اگر کوئی مسلمان بعض آیات کو نہ سمجھ پا رہا ہو تو وہ درج ذیل حدیث کو مدنظر رکھے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ قرآن میں اختلاف کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا ردّ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذَا: ضَرَبُوْا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہٗبِبَعْضٍ،وَاِنَّمَانَزَلَکِتَابُاللّٰہِیُصَدِّقُ بَعْضُہٗبَعْضًا،فَلَاتُکَذِّبُوْابَعْضَہٗبِبَعْضٍ،فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْہُ فَقُوْلُوْا، وَمَا جَھِلْتُمْ فَکِلُوْہُ اِلٰی عَالِمِہٖ۔)) … تمسے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ وہ کتاب اللہ کے بعض حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ٹکراتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی کی کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم اس کے بعض حصے کی وجہ سے اس کے بعض حصے کونہ جھٹلاؤ۔ جتنا تم جان لو وہ بیان کرو، اور جو نہ جان سکو اس کو اس کے عالم کی طرف سپرد کر دو۔ (احمد: ۶۷۴۱، ابن ماجہ)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد کہا: اس کا معنییہ ہے کہ دو افراد ایک آیت کے بارے میں مجادلانہ گفتگو کریں، نتیجتاً ایک اس کا انکار کر دے، یا اس کو ردّ کرے یا اس کے بارے میں شک میں پڑ جائے۔ ایسا جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (صحیحہ: ۳۴۴۷)
ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جھگڑنے سے مراد ایک دوسرے کا ردّ کرنا ہے، مثلا ایک آدمی ایک آیت سے ایک استدلال پیش کرتا ہے، جبکہ دوسرا آدمی کسی دوسری آیت سے اس کے الٹ استدلال کر کے اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، حالانکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے کو چاہیے کہ ایسی آیات میں جمع و تطبیق کی کوئی صورت پیدا کرے، تاکہ یہ نقطہ واضح ہو جائے کہ قرآن کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، اگر وہ مختلف آیات میں توافق نہ دے سکے تو اس کو اپنی سمجھ کی کوتاہی سمجھے اور ان آیات کو اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر دے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَئْیٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ} (سورۂ نسائ: ۵۹) پھر انھوں نے ایک مثال دی: ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ} … کہہ دیجئے کہ ہر چیز اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ جبکہ دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ} (سورۂ نسائ: ۹۷) تجھے جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے تو وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔
تناقض: … پہلی آیت میں ہر چیز کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا گیا اور دوسری آیت میں برائی کو بندے کی طرف منسوب کیا گیا۔ (اگر دوسری آیات، احادیث اور اجماعِ امت کو دیکھا جائے تو سب سے بہترین جمع و تطبیقیہ ہے کہ برائی بھی اللہ تعالی کی مشیت سے ہوتی ہے، لیکنیہ برائی نفس کے گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا،یعنییہ نفس کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ} (سورۂ شوری: ۳۰) تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے، اوربہت سے گناہ تو (اللہ) معاف ہی فرما دیتا ہے۔) لیکن اگر تقدیر کا منکر اس بات پر ڈٹ جائے کہ برائی کا خالق انسان خود ہے اور اس قسم کی آیات کو انکارِ تقدیر پر بطورِ دلیل پیش کرے، تو یہی مجادلہ ہو گا، جس سے منع کیا گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/ ۴۹۳، مفہوم لکھا گیا، بریکٹ والا پیراگراف راقم الحروف کی طرف سے لکھا گیا)
اگر کوئی مسلمان بعض آیات کو نہ سمجھ پا رہا ہو تو وہ درج ذیل حدیث کو مدنظر رکھے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ قرآن میں اختلاف کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا ردّ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذَا: ضَرَبُوْا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہٗبِبَعْضٍ،وَاِنَّمَانَزَلَکِتَابُاللّٰہِیُصَدِّقُ بَعْضُہٗبَعْضًا،فَلَاتُکَذِّبُوْابَعْضَہٗبِبَعْضٍ،فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْہُ فَقُوْلُوْا، وَمَا جَھِلْتُمْ فَکِلُوْہُ اِلٰی عَالِمِہٖ۔)) … تمسے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ وہ کتاب اللہ کے بعض حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ٹکراتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی کی کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم اس کے بعض حصے کی وجہ سے اس کے بعض حصے کونہ جھٹلاؤ۔ جتنا تم جان لو وہ بیان کرو، اور جو نہ جان سکو اس کو اس کے عالم کی طرف سپرد کر دو۔ (احمد: ۶۷۴۱، ابن ماجہ)