کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8328
عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُكُمْ وَفِي لَفْظٍ إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے افضل اور بہتر وہ شخص ہے، جو قرآن پاک سیکھتا ہے اور سکھاتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … قرآنِ مجید وہ کلام ہے جسے جہانوں کے پالنہار نے ترتیب دیا، سیدالملائکہ جبریل علیہ السلام کے واسطے سے سید البشر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا۔ جیسے اللہ تعالی کی ہستی، ذات و صفات میںیکتا و یگانہ ہے، ایسے ہی اس کا کلام لاثانی، عدیم النظیر اور بے مثال ہے، یہ ربّ کریم کا وہ عظیم معجزہ ہے کہ گزشتہ سوا چودہ صدیوں میں کوئی بھی اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکی، جن بد باطن لوگوں نے ناکام کوشش کی، انہوں نے اپنے منہ پر تھوکا اور ان کے اِس بدنامِ زمانہ کردار سے قرآن پاک کے مقام و مرتبہ میں اضاہ ہو گیا۔
اس اعتبار سے یہ منفرد کلام ہے کہ جس کی تلاوت کرنے سے دلوں کو راحت و سکون نصیب ہو تا ہے، یہ اللہ تعالی کا بہت فضیلت والا ذکر ہے، انسانیت کی رشد وہدایت کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے بشریت کے نام آخری اور لازوال پیغام ہے، اس کی موافقت کرنے والادنیا و آخرت میںکامیاب وکامران ہوتا ہے اور اس کی مخالفت کرنے والا دونوں جہانوں میں رسوا و خوار ہوتا ہے۔
جہاں اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کی ضمانت دی، وہاں اس کو سرچشمۂ ہدایت و رشد بھی قرار دیا۔ اللہ تعالی نے ان دو عظیم بلکہ عظیم تر امور کو سرانجام دینے کے لیے قرآن مجید کے معلمین اور متعلمین کا انتخاب کیا۔ آج سے چودہ سو بیس (۱۴۲۰) برس پہلے قرآن مجید کے نزول کی تکمیل ہو چکی تھی، لیکن کیا مجال کہ قرآن کریم کی درس و تدریس کرنے والوں نے اس کتابِ عظیم کے زیر زبر میں فرق آنے دیا ہو۔
لیکن اس وقت کے لوگوں کی ترجیحات اور میلانات مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں اور عملی طور پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے، بچوں کو پڑھانے اور اس کا ترجمہ و تفسیر سیکھنے کی رغبت ختم ہو چکی ہے، الا ما شاء اللہ۔
اس اعتبار سے یہ منفرد کلام ہے کہ جس کی تلاوت کرنے سے دلوں کو راحت و سکون نصیب ہو تا ہے، یہ اللہ تعالی کا بہت فضیلت والا ذکر ہے، انسانیت کی رشد وہدایت کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے بشریت کے نام آخری اور لازوال پیغام ہے، اس کی موافقت کرنے والادنیا و آخرت میںکامیاب وکامران ہوتا ہے اور اس کی مخالفت کرنے والا دونوں جہانوں میں رسوا و خوار ہوتا ہے۔
جہاں اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کی ضمانت دی، وہاں اس کو سرچشمۂ ہدایت و رشد بھی قرار دیا۔ اللہ تعالی نے ان دو عظیم بلکہ عظیم تر امور کو سرانجام دینے کے لیے قرآن مجید کے معلمین اور متعلمین کا انتخاب کیا۔ آج سے چودہ سو بیس (۱۴۲۰) برس پہلے قرآن مجید کے نزول کی تکمیل ہو چکی تھی، لیکن کیا مجال کہ قرآن کریم کی درس و تدریس کرنے والوں نے اس کتابِ عظیم کے زیر زبر میں فرق آنے دیا ہو۔
لیکن اس وقت کے لوگوں کی ترجیحات اور میلانات مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں اور عملی طور پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے، بچوں کو پڑھانے اور اس کا ترجمہ و تفسیر سیکھنے کی رغبت ختم ہو چکی ہے، الا ما شاء اللہ۔
حدیث نمبر: 8329
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےاسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال امت ِ مسلمہ کے نیک لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کے حکم سے گنہگاروں کے حق میں سفارش کریں گے۔
حدیث نمبر: 8330
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَفِي لَفْظٍ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمُ النَّارُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پاک پڑھا، سیکھا اور اسے حفظ کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے اور اس کے گھر والوں میں سے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول کریں گے، جن کے حق میں دوزخ واجب ہو چکی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … دلوں کی آبادی ایمان اور تلاوت ِ قرآن سے ہے، جیسا گھروں کی آبادی سازو سامان اور حسن و جمال کے ساتھ ہے، سو جس دل میں قرآن نہیں ہے، وہ اس گھر کی طرح ہے، جو سامان سے خالی اور بے آباد پڑا ہو۔
حدیث نمبر: 8331
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پیٹ میں قرآن مجید کا کوئی حصہ نہ ہو، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 8332
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَلَمْ تَرَوْهُ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا بھلائی کے ساتھ ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے دیکھا نہیں کہ وہ قرآن سیکھتا ہے، (سو بہتر کیوں نہ ہو)۔
حدیث نمبر: 8333
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْقَهْ فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا:پڑھتا جا اور چڑھتا جا، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا، وہاں تیری منزل ہو گی۔امام اعمش کو راویٔ حدیث کے نام میں شک ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی آیات کی تعداد جنت کے درجات کے برابر ہے، جس کو جتنی آیاتیاد ہوں گی، اس کو اتنے ہی درجے ملیں گے۔
حدیث نمبر: 8334
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْقَ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا کہ تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس بیشک تیری منزل وہ ہو گی، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 8335
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت صاحبِ قرآن سے کہاجائے گا ،جب وہ جنت میں داخل ہوگا ،پڑھتاجا اور اوپر چڑھتا جا، وہ پڑھتا جائے گا اور ہر آیت پر درجہ بدرجہ چڑھتا جائے گا،یہاں تک کہ آخر تک پہنچ جائے گا۔
حدیث نمبر: 8336
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَهُوَ حِبْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک سے پہلی سات سورتیں یاد کرے وہ ایک بڑا عالم ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت الأُوَل کے بجائے الطِّوَال کے الفاظ ہیں، ان سے مراد درج ذیل سات سورتیں ہیں: (۱)سورۂ بقرہ، (۲)سورۂ آل عمران، (۳)سورۂ نسائ، (۴)سورۂ مائدہ، (۵)سورۂ انعام، (۶)سورۂ اعراف، (۷)سورۂ انفال، سورۂ توبہ (بعض اہل علم سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کو ایک سورت تسلیم کرتے ہیں)۔
قرآن مجید کے بیشتر، مفصل، فقہی اور اہم مسائل کا بیان پہلی سات سورتوں میں ہے۔
قرآن مجید کے بیشتر، مفصل، فقہی اور اہم مسائل کا بیان پہلی سات سورتوں میں ہے۔
حدیث نمبر: 8337
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ فَقِيلَ مَنْ أَهْلُ اللَّهِ مِنْهُمْ قَالَ أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اہل اللہ بھی موجود ہیں۔ کسی نے کہا:اہل اللہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے اللہ کااہل اور اس کے بندگان خاص ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اہلِ قرآن سے مراد وہ لوگ ہیں، جو قرآن مجید کو یاد کرتے ہیں، رات کی گھڑیوں میں اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی تعلیم و تعلّم کا بند و بست کرتے ہیں۔ اہل اللہ سے مراد اللہ تعالی کے اولیاء اور اس کے خاص لوگ ہیں۔
حدیث نمبر: 8338
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَتَعَاهَدُوا وَتَغَنَّوْا بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتاب اللہ کو سیکھو اور پھر اس کی نگہداشت کرو اور گا کر یعنی خوبصورت آواز میں اس کو پڑھو، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت (سینوں سے) جلدی نکل جانے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کتاب اللہ کی تعلیم حاصل کرنے کے تین انداز ہیں: (۱)ناظرہ (۲) حفظ (۳)ترجمہ و تفسیر۔
جو آدمی جس انداز میں اس کتاب کی تعلیم حاصل کر چکا ہے، اس کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ بار بار اس کو پڑھا جائے اور اس کے معانی و مفاہیم کا مطالعہ کیا جائے، عام لوگوں کا نظریہیہ ہے کہ اس قسم کی احادیث کا تعلق صرف حافظ ِ قرآن سے ہے، لیکنیہ نظریہ درست نہیں ہے۔
جو آدمی جس انداز میں اس کتاب کی تعلیم حاصل کر چکا ہے، اس کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ بار بار اس کو پڑھا جائے اور اس کے معانی و مفاہیم کا مطالعہ کیا جائے، عام لوگوں کا نظریہیہ ہے کہ اس قسم کی احادیث کا تعلق صرف حافظ ِ قرآن سے ہے، لیکنیہ نظریہ درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 8339
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ فَيَأْخُذَهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ قَالَ قُلْنَا كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ قَالَ فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک دن صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم میں سے کون ہے، جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ روزانہ صبح صبح وادیٔ بطحان یا وادیٔ عقیق میں جایا کرے اور کسی گناہ اور قطع رحمی کے بغیر وہاں سے خوبصورت اور بڑی کوہان والی دو اونٹنیاں لے آیا کرے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں ہر ایک یہ چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مسجد میں صبح جائے، کتاب اللہ سے دو آیتیں سیکھ لے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین آیتیں، تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، چار چار سے بہتر ہیں، غرضیکہ جتنی آیات، اتنی اونٹنیاں۔
وضاحت:
فوائد: … انسان ظاہری اور خاص طور پر مال و دولت کی نعمت کو زیادہ اور جلدی محسوس کرتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مثال دے کر صحابۂ کرام کاذہن روحانی خزانے کی طرف منتقل کر دیا۔
حدیث نمبر: 8340
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سے ملتی جلتی حدیث بیان کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں: ((أَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلٰی أَ ہْلِہِ یَجِدُ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ فَثَلَاثُ آیَاتٍیَقْرَأُ بِہِنَّ أَ حَدُکُمْ فِی صَلَاتِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ۔)) … کیا تم میں سے کوئییہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے تو اس کو وہاں تین موٹی تازی اور بڑی کوہان والی حاملہ اونٹنیاں مل جائیں، بس تین آیات ہیں، اگر کوئی آدمی اپنینماز میں تین آیات کی تلاوت کر لیتا ہے تو یہ عمل اس کے لیے تین موٹی تازی اور بڑی کوہان والی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 8341
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیں۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے یمن کی طرف ان دو صحابہ کو بھیجا تھا اور ان کو روانہ کرنے کا ایک مقصد قرآن مجید کی تعلیم بھی تھا۔