حدیث نمبر: 8321
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أُمَّتَكَ مُخْتَلِفَةٌ بَعْدَكَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَيْنَ الْمَخْرَجُ يَا جِبْرِيلُ قَالَ فَقَالَ كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى بِهِ يَقْصِمُ اللَّهُ كُلَّ جَبَّارٍ مَنِ اعْتَصَمَ بِهِ نَجَا وَمَنْ تَرَكَهُ هَلَكَ مَرَّتَيْنِ قَوْلٌ فَصْلٌ وَلَيْسَ بِالْهَزْلِ لَا تَخْتَلِقُهُ الْأَلْسُنُ وَلَا تَفْنَى أَعَاجِيبُهُ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ کے بعد آپ کی امت اختلاف کا شکار ہو گی، میں نے کہا: اے جبریل! اس اختلاف سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کی شان توڑتا ہے، جو اس کو تھامے گا، وہ نجات پائے گا، جو اسے چھوڑ دے گا، وہ ہلاک ہوگا، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا،یہ فیصلہ کن کلام ہے اور یہ مذاق نہیں (حقیقت پہ مبنی سچا کلام ہے) زبانیں اس جیسا کلام پیش نہیں کر سکتیں، اس کے عجائبات اور اسرار ختم نہیں ہوتے، اس میں تم سے پہلوں کی خبریں ہیں،تمہارے مابین ہونے والے فیصلے ہیں اور تمہارے بعد ہونے والی اخبار کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8321
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور، ثم ھو منقطع، محمد بن اسحاق، لاتعرف له رواية عن محمد بن كعب القرظي ۔ أخرجه الترمذي: 2906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 704»
حدیث نمبر: 8322
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ وَجَوَامِعَهُ وَعَلِمْتُ كَمْ خَزَنَةُ النَّارِ وَحَمَلَةُ الْعَرْشِ وَتُجُوِّزَ بِي وَعُوفِيتُ وَعُوفِيَتْ أُمَّتِي فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا دُمْتُ فِيكُمْ فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ أَحِلُّوا حَلَالَهُ وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں الوداع کہہ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد نبی اُمّی ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، مجھے کلمات کی ابتدائی، انتہائی اور جامع صورتیں عطا کی گئی ہیں، مجھے یہ بھی علم ہے کہ دوزخ کے نگران کتنے فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے کتنے فرشتے ہیں، میری امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت ساری تکالیف سے درگزر کیا گیاہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت دی گئی ہے،جب تک میں تم میں موجود ہوں، میری بات سنو اور اطاعت کرو اور جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں توکتاب اللہ پرعمل لازم پکڑنا، اس کی حلال کردہ اشیا کو حلال سمجھنا اور اس کے حرام کردہ امور کو حرام سمجھنا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے، سمندر کو کوزے میں بند کر دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا وصف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو فصاحت و بلاغت کی شاہکار ہوتی تھی۔ جَوَامِعُ الکَلِم: ان سے مرادیہ ہے کہ بظاہر تو کلام مختصر اور کم حروف والے الفاظ پر مشتمل ہو، لیکن وہ اپنے اندر کئی معانی اور احکام کو سموئے ہوئے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8322
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، وعبد الرحمن بن مريح مجھول، ھكذا قال ابن حجر في اللسان ، لكنه قال في التعجيل : ھو رجل مشهور، له ادراك ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6606»
حدیث نمبر: 8323
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو اتنے معجزات اور نشانیاں عطا کی گئی ہیں کہ لوگ اس پر ایمان لاتے رہے، جو چیز مجھے عطا کی گئی ہے، وہ وحی ہے، اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے فرمانبرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … ہر نبی کو اس کے زمانے کے مطابق معجزات اور خارق عادت امور عطا کیے گئے، جن سے ان کی تصدیق ہوتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مختلف معجزات عطا کیے گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد والے افراد کو بھی حیران و ششدر کیے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی اکثریت قرآن مجید سے متأثر ہوئی، اب پندرہویں صدی جاری ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام اور خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا اعجاز قائم ہے اور قائم رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8323
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4981، 7274، ومسلم: 152، 239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8472»
حدیث نمبر: 8324
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ الصِّيَامُ أَيْ رَبِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَيَقُولُ الْقُرْآنُ مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ قَالَ فَيُشَفَّعَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے پینے اور دوسری خواہشات سے سے روکے رکھا، پس تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اُدھر قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کو نہ سونے دیا، پس تو اس کے حق میری سفارش قبول فرما۔ سو ان کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن کریم اور روزہ، دونوں کی سفارش کے الفاظ پر غور کریں تاکہ ہم میں قرآن پر عمل کرنے، رات کو قیام کرنے اور روزے کے تقاضے پورے کرنے کی رغبت پوری ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8324
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني في المشكاة ۔ أخرجه الحاكم: 1/ 554، والبيھقي في الشعب : 1994 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6626»
حدیث نمبر: 8325
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ الْقُرْآنَ جُعِلَ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر قرآن پاک کو چمڑے میں رکھ دیا جائے پھر آگ میں ڈال دیا جائے تو جلے گا نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مناوی نے فیض القدیر میں اس حدیث کا مفہوم واضح کرنے کے لیے لمبی اور بے فائدہ بحث کی۔ ظاہری معنی وہی ہے جو امام بیہقی جیسے محدثین نے مراد لیا۔ وہ شعب الایمان میں ابو عبد اللہ بوشنجی کے حوالے سے کہتے ہیں: یَعْنِی اَنَّ مَنْ حَمَلَ الْقُرْآنَ وَقَرَأَ ہُ لَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔ جس نے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر اس کو پڑھتا رہا تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
امام احمد نے کہا، جیسا کہ الأسمائ میںنقل کیا گیا ہے: وَاِنَّ مِمَّا لاَ شَکَّ فِیْہِ: اَنَّ الْمُرَادَ حَامِلُ
الْقُرْآنِ وَحَافِظُہُ وتَالِیُہُ لِوَجْہِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی، لاَ یَبْتَغِی عَلَیْہِ جَزَائً وَلاَ شُکُوْرًا اِلاَّ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِلَّا کَانَ کَمَا قَالَ اَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔وَھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ الْمُقْرِیئُ۔ کَمَا فِی مُسْنَدِ اَبِییَعْلٰی: ((تَفْسِیْرُہُ: اَنَّ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ فَھُوَ شَرٌّ مِنْ خِنْزِیْر۔ … بلاشک و شبہ اس حدیث کا مرادی معنییہ ہے کہ قرآن مجید کا حافظ ہو، اسے اللہ تعالی کی رضامندی کے حصول کے لیے پڑھتا ہو اور صرف اللہ تعالی سے اس کے اجر اور قدردانی کا امید وار ہو تو اسے جہنم کی آگ نہیں لگے گی۔ وگرنہ وہ ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن یزید مقری کے قول کا مصداق بنے گا، جو مسند ابو یعلی میں ہے کہ جس نے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر جہنم میں داخل ہوا وہ تو خنزیر سے بھی بدتر ہے۔(صحیحہ: ۳۵۶۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8325
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني في صحيحته ۔ أخرجه الدارمي في سننه : 2/430، والطحاوي في مشكل الآثار : 1/390، وأبوالقاسم بن عبدالحكم في فتوح مصر : 288، وأبويعلي في مسنده : 3/284/1745، والطبراني في المعجم الكبير : 17/308، وابن عدي في الكامل : 6/469، والبيهقي في الشعب : 2/554/2699 وفي الأسماء والصفات : 264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17499»
حدیث نمبر: 8326
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بعض قوموں کو رفعتیں عطا کرتے ہیں اور بعض کو ذلیل کر دیتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمانوں کی رفعت کا دارومدار قرآن مجید پر ہے، مسلمانوں کے عروج کا سبب قرآن مجید کے نظام کا پاس و لحاظ تھا، جب سے امت ِ مسلمہ نے اس کتابِ عظیم سے غفلت برتی اس وقت سے ذلت کا سامنا ہے۔ بقول علامہ اقبال وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8326
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 817، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 232»
حدیث نمبر: 8327
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَقْرَأُ سُورَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مَلَكًا يَحْفَظُهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے بستر پر آتا ہے اور کتاب اللہ میں سے ایک سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے، جو اس کی تکلیف دہ چیزوں سے حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، جب بھی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۵۵۲۸) اور اس کے بعد والی احادیث میں سوتے وقت کے اذکار کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8327
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن شداد بن اوس، وابو مسعود سعيد بن اياس اختلط، ورواية ھارون عنه بعد اختلاطه ۔ أخرجه الترمذي: 3407، والنسائي: 3/ 54 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17262»