کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
حدیث نمبر: 8300
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنْ حَلَقِ الْأَنْصَارِ فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ فَقَالَ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُهُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ لَتَجِيئَنَّ بِبَيِّنَةٍ عَلَى الَّذِي تَقُولُ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى مَذْعُورًا أَوْ قَالَ فَزِعًا فَقَالَ أَسْتَشْهِدُكُمْ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ فَقُمْتُ مَعَهُ وَشَهِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں انصار کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہواتھا کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور وہ کچھ ڈرے ڈرے سے لگ رہے تھے، دراصل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے پاس بلایا تھا، پس میں ان کے پاس آیا اور تین بار اجازت طلب کی، لیکن جب مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس پلٹ گیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ کسی سے اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔ جب میں نے یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتلائی تو انھوں نے کہا: اس بات کی دلیل لاؤ، وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، پس میں گواہی طلب کرنے کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر ہم میں جو سب سے چھوٹا ہے، وہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہی سب سے چھوٹا تھا، پس میں کھڑا ہوا اور یہ گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8300
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6245، ومسلم: 2153 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11043»
حدیث نمبر: 8301
عَنْ عَطَاءٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ آنِفًا قَالُوا بَلَى قَالَ فَاطْلُبُوهُ قَالَ فَطَلَبُوهُ فَدُعِيَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا فَقَالَ لَتَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ بِالْبَيِّنَةِ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ قَالَ فَأَتَى مَسْجِدًا أَوْ مَجْلِسًا لِلْأَنْصَارِ فَقَالُوا لَا يَشْهَدُ لَكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَهِدَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید بن عمبیر بیان کرتے ہیں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گھر جا کر تین مرتبہ اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن جب اجازت نہ ملی تو وہ واپس ہو لئے، سیدنا عمر نے کہا: کیا میں ابھی ابو موسی عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سن رہا تھا، گھر والوں نے کہا: کیوں نہیں، یہ وہی تھے، انھوں نے کہا: اسے بلاؤ، پس بلایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:جو کچھ تم نے کیا ہے، کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ سے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت طلب کی ہے، مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں واپس جا رہا تھا، ہمیں یہی حکم ملا ہے، سیدنا عمر نے کہا: اس پر دلیل لاؤ وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، سیدنا ابو موسیٰ مسجد میں آئے یا انصار کی مجلس میں گئے اور گواہ کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا: ہمارا سب سے چھوٹا بندہ ہی تیرے حق میں گواہی دے گا، پس سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اٹھے اور ان کے حق میں گواہی دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ سنت مجھ سے مخفی رہ گئی ہے، بازاروں کی تجارت نے ہمیں غافل کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8301
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7353، ومسلم: 2153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19810»
حدیث نمبر: 8302
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ ، انھوں نے جوابا وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ تو کہا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کہا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بھی تین بار ہی جواب دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنایا،بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹ آئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پیچھے ہو لئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب بھی آپ نے سلام کہا، میں نے جواب دیا، مگر آپ کو سنایا نہیں تھا، دراصل میں زیادہ سے زیادہ آپ کا سلام اور برکت حاصل کرنا چاہتا تھا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر میں لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے منقّی پیش کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: أَکَلَ طَعَامَکُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَأَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُونَ (نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، فرشتے تمہارے حق میں رحمت کی دعا کریں اور روزے دار تمہارے ہاں افطاری کریں)۔
وضاحت:
فوائد: … اِس اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اجازت لینے والا یوں کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ آجکل لوگ اجازت طلب کرنے کے لیے صرف (M صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم y, I رضی اللہ عنہا om in sir?) کہتے ہیں، اجازت لینے کا یہ طریقہ تعلیمی اداروں میں عام ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے، جیسے طلبہ کو سلام کا شعور ہی نہیں ہے، ایسوں کو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنا چاہئے، تاکہ نبی ٔ مہربان کی سنت ِ مبارکہ پر عمل ہو سکے اور رحمت و سلامتی کی دعا کا تبادلہ بھی ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 3854، والترمذي: 2696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12433»
حدیث نمبر: 8303
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ حَائِطًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَإِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِإِبِلٍ فَأَرَادَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ أَوْ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَشْرَبْ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کے باغ میں جائے اور وہ وہاں سے سے کھانا چاہے تو یوں آواز دے: اے باغ کے مالک! تین مرتبہ آواز دے، اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ہے، وگرنہ وہ باغ سے کھا لے اور جب تم میں سے کوئی اونٹوں کے قریب سے گزرے اور ان اونٹنیوں کا دودھ پینا چاہے تو آواز دے: اے اونٹوں کے مالک! یا اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ جواب دے تو درست ہے، وگرنہ وہ دودھ (دوہ کر) پی لے، مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے،اس سے زیادہ مہمان پر صدقہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں محتاج کے لیے اجازت لینے کا یہ مخصوص طریقہ ہے اور ایسی صورت میں محتاج کو کوئی چیز اپنے ساتھ اٹھا کر لے جانے کی اجازت نہیں ہے، کسی انسان کے کھلیان، گھر یا دوکان وغیرہ میں پڑے ہوئے مال اور غلے کے بارے میں اجازت لینے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابويعلي: 1244، وابن حبان: 5281، والبيھقي: 9/ 359، وأخرجه مختصرا ابن ماجه: 2300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11060»
حدیث نمبر: 8304
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ رَدَّدَهَا ثَلَاثًا وَإِذَا أَتَى قَوْمًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلام کرتے تو اس کلام کو تین بار دوہراتے، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو سلام کہتے تو ان کو تین دفعہ سلام کہتے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر بات کو تین بار دوہرانا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ نہیں تھی، البتہ بعض اہم باتوں کو تین یا اس سے بھی زیادہ دفعہ بیان فرما دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8304
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 94، 95، 6244 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13253»