کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 8296
أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْفَتْحِ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الْوَادِي قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ قَالَ الضَّحَّاكُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَابْنُ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ وَقَالَ الضَّحَّاكُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کلدہ بن حنبل کہتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے مکہ فتح کے وقت دودھ، ہرنی کے بچے کا گوشت اور چھوٹی ککڑیاں دے کر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی بلند وادی کی جانب تھے،میں سلام کہے اور اجازت لیے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، السلام علیکم کہو اور پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں۔ عمرو نے بتایا کہ یہ واقعہ مجھے امیہ بن صفوان نے بتایا تھا، میں نے کلدہ سے نہیں سنا تھا، ضحاک اور ابن حارث نے کہا: یہ صفوان کے اسلام لانے کے بعد کی بات ہے، ضحاک اور عبداللہ بن حارث نے دودھ اور ہرنی کے گوشت بھیجنے کا کہا ہے، ککڑی کا ذکرنہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8296
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15503»
حدیث نمبر: 8297
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَأَدْخُلُ فَعَرَفَ صَوْتِي فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ إِذَا أَتَيْتَ إِلَى قَوْمٍ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَإِنْ رَدُّوا عَلَيْكَ فَقُلْ أَأَدْخُلُ قَالَ ثُمَّ رَأَى ابْنَهُ وَاقِدًا يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، میں نے ان سے کہا: کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا: اے بیٹے! جب کسی قوم کے پاس آؤ تو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہو، اگر وہ جواب دیں تو پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں، پھر انھوں نے اپنے بیٹے واقد کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹ رہا تھا، پس انھوں نے کہا: اپنا تہبند اوپر اٹھا لے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی تکبر سے اپنا لباس گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8297
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرج المرفوع منه البخاري: 5783،ومسلم: 2085، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4884»
حدیث نمبر: 8298
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرَبَةٍ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيَدْخُلُ عُمَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے،جبکہ آپ ایک بالا خانے میں تشریف فرما تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ،اے اللہ کے رسول! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ،کیا عمر اندر آ سکتا ہے؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 5201، والترمذي: 2961 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2756 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2756»
حدیث نمبر: 8299
عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي مُدْرِكٌ أَوِ ابْنُ مُدْرِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى فَقُلْتُ أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرُغَ فَقَالُوا هَيْهَاتَ فَقُلْتُ لِآذِنِهَا كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَقَالَ قُلْ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا الْحَدِيثُ سَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي فَتَاوَى عَائِشَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن موسیٰ کہتے ہیں: مجھے مدرک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، تاکہ میں کچھ اشیاء کے بارے میں ان سے پوچھوں، جب میں ان کے پاس آیا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں بیٹھ گیا تا کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں، انہوں نے کہا: بہت دیر کر دی ہے،پس میں نے اجازت دینے والے سے کہا: میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں، اس نے کہا: تم اس طرح کہو:اے نبی آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور برکت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر،سلامتی ہو امہات المؤمنین یا ازواجِ رسول پر، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، پھر میں سیدہ کے پاس چلا گیا۔ مکمل حدیث فتاوی عائشہ میں آ رہی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی کے گھر جائیں تو سلام بھی کہا جائے اور اجازت طلب کی جائے اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے السلام علیکم کہا جائے اور پھر نام بتایا جائے اور کہا جائے اندر آنے کی اجازت ہے اگر اجازت مل جائے تو داخل ہو جائیں اگر اجازت نہ ملے تو واپس آ جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8299
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»