کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر¤ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8292
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ فَلَا تَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا بِإِذْنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت پر مامور تھا، سو میں آپ کے پاس اجازت کے بغیر آ جاتا تھا، میں ایک دن (روٹین کے مطابق) داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیارے بیٹے! ایک نیا حکم نافذ ہو گیا ہے، پس تو اجازت کے بغیرمیرے پاس نہ آنا۔
حدیث نمبر: 8293
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّارُ حَرَمٌ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْكَ حَرَمَكَ فَاقْتُلْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا گھر تیرے لیے حرم کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے جو آدمی تیرے حرم میں (بغیر اجازت کے) داخل ہو جائے، اس کو قتل کر دے۔
حدیث نمبر: 8294
عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهُ فَتَكَلَّمَا فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا خَرَجَ الْمَوْلَى سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَأْذِنَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا تاکہ یہ ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی عمرو کے لئے اجازت طلب کرے، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے ضرورت کے مطابق بات کی، جب وہ باہر نکلے تو غلام نے اس کی وجہ پوچھی کہ عمرو بغیر اجازت کے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس داخل کیوں نہیں ہوئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کی بیوی سے بات کرنے کے لیے اس سے اجازت لینے سے منع فرمایا، الا یہ کہ پہلے ان کے خاوندوں سے اجازت لی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی شادی شدہ خاتون کی اجازت دے دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے پاس جانے سے پہلے اس کے خاوند سے اجازت طلب کی جائے اور پھر اس سے اجازت مانگی جائے۔
حدیث نمبر: 8295
عَنْ أَبِي صَالِحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَتْ لَهُ قَالَ ثَمَّ عَلِيٌّ قَالُوا لَا قَالَ فَرَجَعَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ ثَمَّ عَلِيٌّ قَالُوا نَعَمْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ حِينَ لَمْ تَجِدْنِي هَاهُنَا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت تو دے دی، لیکن سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اِدھر علی رضی اللہ عنہ بھی ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی وہ نہیں ہیں،پس سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے، اور پھر دوبارہ اجازت طلب کی اور پوچھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں؟ کسی نے کہا: جی ہیں، پھر وہ آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: جب میں نہیں تھا تو آپ کیوں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے، جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ کسی کے پاس جانے کے لیے یا کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔