کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اجازت لینے اور اس کی کیفیت اور آداب کے ابواب¤اجازت طلب کرنے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8286
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَيْتَ قَوْمٍ أَتَاهُ مِمَّا يَلِي جِدَارَهُ وَلَا يَأْتِيهِ مُسْتَقْبِلًا بَابَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کے گھر آتے تو اس کی دیوار کے نزدیک کھڑے ہوتے اور اس کے دروازے کے سامنے نہ آتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8286
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 5186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17844»
حدیث نمبر: 8287
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ الْبَابَ يَسْتَأْذِنُ لَمْ يَسْتَقْبِلْهُ يَقُولُ يَمْشِي مَعَ الْحَائِطِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهُ أَوْ يَنْصَرِفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اجازت طلب کرنے کے لیے کسی کے گھر کے دروازے پر آتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوار کے ساتھ چلتے، یہاں تک کہ اجازت طلب کر لیتے یا پھر واپس چلے جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اجازت لینے والے یا دستک دینے والے کو دروازے کے سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہیے، تاکہ کوئی بے پردگی نہ ہو اور کوئی راز فاش نہ ہو اور کوئی شرمندگی نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8287
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17846»
حدیث نمبر: 8288
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَنَا قَالَ مُحَمَّدٌ كَأَنَّهُ كَرِهَ قَوْلَهُ أَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں ہوں، میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں، میں … یہ کیا ہوتا ہے۔ محمد راوی کہتے ہیں: گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ میں کو ناپسند کیا۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سنہری عادات و اطوار پر، کتنی سنجیدگی اور وقار ہے، چودہ صدیوں سے زیادہ عرصہ قبل ان عادات کو متعارف کروایا جا رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8288
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6250، ومسلم: 2155 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14234»