کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
حدیث نمبر: 8277
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8277
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 8278
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكَ الْيَهُودِيُّ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكَ فَقُلْ وَعَلَيْكَ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ السَّامُ عَلَيْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب یہودی لوگ تم پر سلام کرتے ہیں تو وہ (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے) اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں، اس لیے تم بھی جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کا معنی یہ ہے: تم پر ہلاکت اور موت واقع ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8278
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6928، ومسلم: 2164 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4563»
حدیث نمبر: 8279
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کہیں تو تم جواب میں وَعَلَیْکُمْ کہا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8279
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6258، ومسلم: 2163 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11970»
حدیث نمبر: 8280
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا عَلَيْكَ أَيْ عَلَيْكَ مَا قُلْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے اور اس نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ۔ لوگوں نے اس کا جواب دیا، لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے ایسے ایسے کہا ہیں نا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب میں سے کوئی تم پر سلام کہے تو تم صرف عَلَیْکَ کہا کرو۔ یعنی جو کچھ تونے کہا، تجھ پر بھی وہی کچھ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8280
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3697، والترمذي: 3301 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13273»
حدیث نمبر: 8281
عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ لَا إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں سلام کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بس جب یہ لوگ تم کو سلام کہیں تو تم یہ کہہ کر ان کا جواب دیا کرو: وَعَلَیْکُمْ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8281
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6926 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13225»
حدیث نمبر: 8282
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَهْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ يَا عَائِشَةُ لَمْ يَدْخُلِ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جواباً یہی الفاظ دوہراتے ہوئے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم پر موت اور ہلاکت واقع ہو، اور تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور غضب برسے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! رک جاؤ۔ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے کہا ہے، کیا وہ آپ نے سنا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے ان کو جو جواب دیا ہے، کیا تم نے وہ نہیں سنا، نرمی جس چیز میں بھی پیدا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے، تو یہ (نرمی کا نہ ہونا) اسے عیب دار بنا دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
وضاحت:
ٖفوائد: … قارئین کرام! غور کریں کہ جب یہودی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سلامتی کی دعا کی بجائے ہلاکت اور موت کی بد دعاکر رہے تھے، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فحش گوئی اور بد گوئی کو پسند نہیں کیا، اس سے ہمیں اپنے بولوں کا اندازہ کر لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8282
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13565»
حدیث نمبر: 8283
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَلَعْنَةُ اللَّاعِنِينَ قَالُوا مَا كَانَ أَبُوكِ فَحَّاشًا فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ قَالَتْ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ فَمَا رَأَيْتِنِي قُلْتُ عَلَيْكُمْ إِنَّهُمْ يُصِيبُهُمْ مَا أَقُولُ لَهُمْ وَلَا يُصِيبُنِي مَا قَالُوا لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ (تم پر بھی ہو)۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم پر ہو اللہ کی لعنت، بلکہ سب لعنت کرنے والوں کی لعنت تم پر ہو۔ انہوں نے کہا: اے عائشہ! تمہارے باپ تو اتنے سخت گو نہ تھے، جب وہ چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جو تو نے سخت الفاظ کہے ہیں، تجھے کس چیز نے ان پر آمادہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ان یہودیوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے دیکھا نہیں کہ میں نے بھی جوابا عَلَیْکُمْ کہا تھا، میں ان پر جو بد دعا کروں گا، وہ ان تک پہنچے گی، لیکن مجھ پر جو وہ بد دعا کریں گے، وہ مجھ تک نہیں پہنچے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8283
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين الا ابن ابا بكر بن محمد بن عمرو لم يذكروا له سماعا من عائشة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25363»
حدیث نمبر: 8284
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ فَسَكَتُّ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّامُ وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَدٌ وَإِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى السَّلَامِ وَعَلَى آمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کی بجائے) کہا:اے محمد! اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناپسندکرنے کی وجہ سے (خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (یہودیوں) نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا اور ہم نے بھی (بد گوئی سے بچتے ہوئے صرف وَعَلَیْکَ کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8284
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25543»
حدیث نمبر: 8285
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہنے کے بہانے کہا: اے ابو القاسم ! اَلسَّامُ عَلَیْکَ،آپ نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُمْ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، جبکہ وہ غصے میں تھیں: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے سنا ہے کہ انھوں نے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، میں نے سنا ہے اور میں نے ان کا جواب بھی دے دیا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ہماری بددعائیں تو قبول ہو جاتی ہیں، لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہیں یا اس لفظ کو تبدیل کر کے کوئی بددعا کر یں تو ان کے جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا جائے۔ جمہور کا یہی مسلک ہے، حافظ ابن حجرؒ نے اسی کی تائید کرتے ہوئے درج ذیل روایت نقل کی:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8285
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم:2166 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15172»