کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8274
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا لَقِيتُمُ الْمُشْرِكِينَ فِي طَرِيقٍ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا قَالَ زُهَيْرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِسُهَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم راستے میں مشرکوں سے ملو تو تم سلام میں پہل نہ کرو اور ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے سہیل سے کہا: کیا ان سے مراد یہود و نصاری ہیں؟ انھوں نے کہا: مشرک ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7557»
حدیث نمبر: 8275
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودو نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم ان کو راستے میں ملو تو ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔
وضاحت:
فوائد: … سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کرنا، اس سے غیر مسلم کی اہانت مقصود نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان راستے کے درمیان میں چلیں تاکہ اسلام اور مسلمان کی فضیلت واضح ہو جائے، جب اسلام کو عملی طور پر زمین کا پسندیدہ مذہب مانا جاتا تھا، اس وقت ان احادیث پر عمل کرنے میں خوبصورتی لگتی تھی، کیونکہ ان اعمال سے اسلام کی شان و عظمت ثابت ہوتی ہے اور اِس وقت چونکہ مسلمان اپنے آپ کو شان والا ثابت نہیں کر رہے، اس لیے اسلام کو اس مرتبے والا نہیں سمجھا جا رہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7606»
حدیث نمبر: 8276
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودٍ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سوار ہو کرکل یہودیوں کے پاس جانے والا ہوں، تم نے انہیں سلام کہنے میں پہل نہیں کرنی اور جب وہ تمہیں سلام کہیں تو صرف یہ کہنا ہے کہ وَعَلَیْکُمْ۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، مزید وضاحت اگلے باب سے ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8276
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3699 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17427»