کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 8266
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِنْ قَامَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس تک پہنچے تو وہ سلام کہے، اگر اس کا ارادہ بیٹھنے کا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر جانے کے لئے کھڑا ہواور لوگ ابھی بیٹھے ہوں توپھر جاتے ہوئے سلام کہے، پہلی دفعہ کا سلام اس دوسری دفعہ کے سلام سے زیادہ اہم نہیں ہے (یعنی آتے وقت بھی سلام کہنا چاہیے اور جاتے وقت بھی، دونوں کی اہمیت برابر برابر ہے)۔
حدیث نمبر: 8267
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ حَقٌّ عَلَى مَنْ قَامَ عَلَى مَجْلِسٍ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ وَحَقٌّ عَلَى مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَامَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَكَلَّمُ فَلَمْ يُسَلِّمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مجلس میں آئے، اس پر حق ہے کہ وہ سلام کہے اور جو مجلس سے کھڑا ہو تو اس پر بھی حق ہے کہ وہ جاتے وقت سلام کہے۔ اتنے میں ایک آدمی جانے کے لئے کھڑا ہوا، چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک گفتگو میں مصروف تھے، اس لیے وہ سلام کہے بغیر چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے بات کو بہت جلدی بھلا دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پہلا سلام تو وہ ہے جو مجلس میں پہنچتے وقت کیا جائے اور دوسرا وہ ہے جو مجلس سے اٹھتے وقت کیا جائے، دونوں سلام ضروری ہیں، ایک کی اہمیت دوسرے سے زیادہ یا ایک دوسرے سے فائق نہیں ہے، بلکہ دونوں ہی ضروری ہیں۔